حدیث

جب تم میں سے کسی کا وضو ٹوٹ جائے، تو جب تک وضو نہ کر لے، اللہ اس کی نماز قبول نہيں فرماتا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ: «لَا يَقْبَلُ اللهُ صَلَاةَ أَحَدِكُمْ إِذَا أَحْدَثَ حَتَّى يَتَوَضَّأَ».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "جب تم میں سے کسی کا وضو ٹوٹ جائے، تو جب تک وضو نہ کر لے، اللہ اس کی نماز قبول نہيں فرماتا۔"

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ نماز کے صحیح ہونے کے لیے ایک شرط طہارت ہے۔ لہذا جس شخص کا پیشاب، پاخانہ اور نیند وغیرہ کی وجہ سے وضو ٹوٹ جائے اور وہ نماز پڑھنا چاہے، تو اس پر وضو کرنا ضروری ہوگا۔

فوائد

  • ناپاکی کی حالت میں نماز قبول نہيں ہوتی، جب تک کہ حدث اکبر کی صورت میں غسل اور حدث اصغر کی صورت میں وضو نہ کر لیا جائے۔
  • وضو نام ہے منہ میں پانی ڈال کر اسے منہ کے اندر گھمانے، پھر سانس کے ساتھ ناک میں پانی چڑھانے، پھر اسے نکال باہر کرنے اور ناک جھاڑنے، پھر چہرے کو تین بار دھونے، پھر دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت تین بار دھونے، پھر پورے سر کا ایک بار مسح کرنے اور پھر دونوں پیروں کو ٹخنوں سمیت تین بار دھونے کا۔
تشریح: العربية

بَيّنَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنَّ مِن شروط صِحةِ الصلاةِ: الطهارةُ، فيَجبُ على مَن أرادَ الصلاةَ أنْ يتوضأ إنْ كان قد حصل منه ناقِضٌ من نواقض الوضوء؛ كالغائط أو البول أو النوم أو غيرِها.

  • صلاةُ المُحْدِثِ لا تُقبل حتى يتطهرَ بالغسل من الحَدَث الأكبر وبالوضوء من الأصغر.
  • الوضوء هو أَخْذُ ماءٍ وإدارته في الفم وإخراجه، ثم سحب الماء بنَفَسه إلى باطن أنفه، ثم إخراجه ونثره، ثم غسل وجهه ثلاث مرات، ثم غسل يديه مع المرفقين ثلاثًا، ثم مسح جميع رأسه مرة واحدة، ثم غسل رجليه مع الكعبين ثلاثًا.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید