حدیث

الله ان کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھرے، انہوں نے ہمیں درمیانی نماز (یعنی نماز عصر) نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ

عربی متن

عن عَلِي بن أبي طالب رضي الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ: «مَلَأ اللهُ قُبُورَهم وبُيُوتَهُم نَارًا، كَمَا شَغَلُونَا عن الصَّلاَة الوُسْطَى حَتَّى غَابَت الشَّمس». وفي لفظ لمسلم: «شَغَلُونَا عن الصَّلاَة الوُسْطَى -صلاة العصر-»، ثم صَلاَّهَا بين المغرب والعشاء». وله عن عبد الله بن مسعود قال: «حَبَسَ المُشرِكُون رسول الله صلى الله عليه وسلم عن العصر، حَتَّى احْمَرَّت الشَّمسُ أو اصْفَرَّت، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : شَغَلُونَا عن الصَّلاَة الوُسْطَى -صلاة العصر-، مَلَأَ الله أَجْوَافَهُم وقُبُورَهم نَارًا (أَو حَشَا الله أَجْوَافَهُم وَقُبُورَهُم نَارًا)».

ترجمہ

علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”الله ان کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھرے، انہوں نے ہمیں درمیانی نماز (یعنی نماز عصر) نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا“۔ مسلم شریف کے الفاظ یہ ہیں: ”انہوں نے ہمیں درمیانی نماز یعنی نماز عصر پڑھنے سے روکے رکھا“۔ پھر آپ ﷺ نے اس نماز کو نماز مغرب اور نماز عشاء کے درمیان پڑھا۔ امام مسلم عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کو مشرکوں نے (جنگ میں مصروفیت کی وجہ سے) نماز عصر پڑھنے سے روکے رکھا یہاں تک سورج سرخ ہو گیا یا زرد ہو گیا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انہوں نے ہمیں درمیانی نماز یعنی نماز عصر پڑھنے سے روکے رکھا، اللہ ان کے پیٹ اور قبروں کو آگ سے بھرے۔ یا پھر اس کے بجائے یہ الفاظ فرمائے ”أَو حَشَا الله أَجْوَافَهُم وَقُبُورَهُم نَارًا“ یا اللہ تعالی ان کے پیٹ اور قبر میں آگ بھر دے۔

تشریح

مشرکوں نے نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو سرحدوں پر مقیم رہنے اور مدینہ اور اپنی حفاظت کرنے میں لگائے رکھا جس کی وجہ سے وہ نماز عصر نہ پڑھ سکے یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔ نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ نے یہ نمازِ عصر، مغرب کے بعد ادا کی۔ اس پر نبی ﷺ نے انہیں بد دعا دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ ان کے پیٹ، ان کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھرے۔ انہوں نے آپ ﷺ کو اور آپ کے صحابہ کو جو تکلیف پہنچائی ہے اس کا انہیں بدلہ دے۔ انہوں نے انہیں نمازِ عصر نہ پڑھنے دی جو سب سے افضل نماز ہے۔

تشریح: العربية

شغل المشركون النبي صلى الله عليه وسلم وأصحابه رضي الله عنهم بالمرابطة وحراسة المدينة وأنفسهم عن صلاة العصر حتى غابت الشمس، فلم يصلها النبي صلى الله عليه وسلم وأصحابه رضي الله عنهم إلا بعد الغروب؛ فدعا عليهم النبي صلى الله عليه وسلم أن يملأ بطونهم وبيوتهم وقبورهم نارًا، جزاء ما آذوه وصحبه، وشغلوهم عن صلاة العصر، التي هي أفضل الصلوات.

  • الوقت المختار للعصر ما قبل اصفرار الشمس.
  • المراد بالصلاة الوسطى صلاة العصر لما جاء في الصحيحين عن علي قال: كنا نراها الفجر حتى سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول يوم الأحزاب "شغلونا عن الصلاة الوسطى صلاة العصر".
  • جواز الدعاء على الظالم بقدر ظلمه؛ لأنه قصاص.
  • الأولى للداعي على الظالم أن يبين سبب الدعاء عليه؛ لتنتفي عنه تهمة العدوان.
  • اهتمام النبي صلى الله عليه وسلم بالصلاة، وتأثره من فوات وقتها.
  • من ذهل عن الصلاة في وقتها يصليها إذا ذكرها.
  • مشروعية قضاء الفوائت في جماعة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید