حدیث

”بندہ جب بیمار ہوتا ہے یا سفر کرتا ہے، تو اس کے لیے ان عبادتوں کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے، جنھیں وہ حالتِ اقامت یا صحت میں ادا کیا کرتاتھا“۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه البخاري

عربی متن

عن أبي موسى الأشعري رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إِذَا مَرِضَ الْعَبْدُ أَوْ سَافَرَ كُتِبَ لَهُ مِثْلُ مَا كَانَ يَعْمَلُ مُقِيمًا صَحِيحًا».

ترجمہ

ابو موسى اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”بندہ جب بیمار ہوتا ہے یا سفر کرتا ہے، تو اس کے لیے ان عبادتوں کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے، جنھیں وہ حالتِ اقامت یا صحت میں ادا کیا کرتاتھا“۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے فضل و رحمت کے بارے میں بتاتے ہوئے یہ واضح کر رہے ہیں کہ جب ایک مسلمان کا معمول صحت اور اقامت کی حالت میں کوئی نیک کام کرنے کا رہتا ہے اور اس کے بعد کوئی عذر سامنے آ جاتا ہے، مثلا بیماری کی وجہ سے وہ کام کر نہیں پاتا یا سفر میں نکل جانے کی وجہ سے اس کی گنجائش نہیں رہتی یا اس طرح کا کوئی اور عذر پیش آ جاتا ہے، تو اس کے لیے اتنا ہی اجر وثواب لکھا جاتا ہے، جتنا صحت اور اقامت کی حالت میں اس کام کو کرنے پر لکھا جاتا۔

فوائد

  • بندوں پر اللہ کا بہت بڑا فضل و کرم۔
  • نیکی کے کاموں میں لگے رہنے اور صحت و اقامت کے اوقات کو غنیمت جاننے کی ترغیب۔
تشریح: العربية

يُخبِرُ النبيُّ صلى الله عليه وسلم عن فضل الله ورحمته، وأنَّ المسلمَ إذا كان من عادته أن يعمل عملًا صالحًا حال صحته وإقامته ثم حَصَلَ له عذر فمرض فلم يَقدرْ على الإتيان به، أو انشغل بالسَّفر عنه، أو أي عذر؛ فإنه يكتب له الأجر كاملًا، كما لو عَمِلَه في حال الصحة والإقامة.

  • سعة فضل الله على عباده.
  • الحث على الاجتهاد في الطاعات واستغلال الأوقات في حال الصحة والفراغ.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید