حدیث

اگر وہ نيک آدمی کا جنازہ ہوتا ہے تو کہتا ہے: مجھے آگے لے چلو، مجھے آگے لے چلو۔ اور اگر وہ نيک آدمی کا جنازہ نہیں ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے: ہائے ہلاکت! تم اسے کہاں لے جا رہے ہو۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي سعيد رضي الله عنه قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «إذا وُضِعت الجَنَازَة واحْتَمَلَهَا الناس أو الرجال على أَعْنَاقِهِم، فإن كانت صالحة، قالت: قَدِّمُونِي قَدِّمُونِي، وإن كانت غير صالحة، قالت: يا وَيْلها! أين تَذهبون بها؟ يسمعُ صوتها كل شيء إلا الإنسان، ولو سَمِعَه صَعِق».

ترجمہ

ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب جنازہ (تیار کرکے) رکھا جاتا ہے اور لوگ يا آدمى اسے اپنے کندھوں پر اٹھاتے ہیں، تو اگر وہ نيک آدمی کا جنازہ ہوتا ہے تو کہتا ہے: مجھے آگے لے چلو، مجھے آگے لے چلو۔ اور اگر وہ نيک آدمی کا جنازہ نہیں ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے: ہائے ہلاکت! تم اسے کہاں لے جا رہے ہو؟ انسان کے سوا ہر چيز اس کی یہ آواز سنتی ہے, اور اگر انسان اسے سن لے تو بے ہوش ہو جائے“۔

تشریح

جب جنازے کو چارپائی پر رکھ دیا جاتا ہے اور لوگ اسے کندھوں پر اٹھا لیتے ہیں تو اگر یہ میت نیک اور صالح ہو تو وہ اپنے سامنے دکھائی دینے والی جنت کی نعمتوں پر خوش اور مسرور ہوتے ہوئے کہتا ہے کہ مجھے جلدی لے کر چلو۔ اور اگر نیک نہ ہو تو پھر وہ اپنے گھروالوں سے کہتا ہے: ”ہائے ہلاکت! ہائے مصیبت!“ کیونکہ اسے اپنا بُرا ٹھکانہ نظر آرہا ہوتا ہے اور اس تک جانا اسے ناگوار ہوتا ہے۔ اس کی اس آواز کو حیوانات و جمادات سمیت تمام مخلوقات سنتے ہیں ماسوا انسان کے اور اگر انسان اسے سن لے تو غشی کھا کرگر جائے یا پھراس کی وجہ سے ہلاک ہی جائے۔

تشریح: العربية

إذا وضعت الجنازة على النعش، ثم احتملها الرجال على أعناقهم، فإن كانت من أهل الخير والصلاح قالت: أسرعوا بي. فَرِحة مسرورة لما تراه أمامها من نعيم الجنة، وإن كانت من غير أهل الصلاح قالت لأهلها: يا هلاكها، ويا عذابها. لما تراه من سوء المصير، فتكره القدوم عليه، ويسمع صوتها كل المخلوقات من حيوان وجَماد إلا الإنسان، ولو سمعها لغشي عليه أو هلك من ذلك.

  • إن الله -تعالى- يطلع عباده على منازلهم، وما أعده لهم في حال الاحتضار، فيشتاق المؤمن لما أُعدَّ له من كرامة ، ويجزع الكافر والفاسق لما يترقبه من أليم العذاب.
  • أن بعض الأصوات يسمعها غير الإنسان، ولا يستطيع الإنسان سماعها، وهذا من المعجزات وقد أثبت العلم الحديث ذلك، والإخبار بهذا من المعجزات النبوية.
  • السنة حمل الجنازة على أعناق الرجال.
  • حمل الجنازة خاص بالرجال دون النساء؛ لنهي النبي -صلى الله عليه وسلم- النساء عن اتباعها.
  • أن روح الميت تتكلم بعد مفارقته لجسده، وقبل دخوله في قبره، والله أعلم بكيفيته.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید