حدیث

چالیس خصلتیں جن میں سب سے اعلیٰ و ارفع دودھ دینے والی بکری کا ہد یہ کرنا ہے۔ ایسی ہیں کہ جو شخص ان میں سے ایک خصلت پر بھی عمل پیرا ہوگا ثواب کی نیت سے اور اللہ کے وعدے کو سچا سمجھتے ہوئے، تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اسے جنت میں داخل کرے گا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي محمد عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «أربعون خَصْلَة: أعلاها مَنيحةُ العَنز، ما من عامل يَعمل بِخَصْلة منها؛ رجاء ثوابها وتصديق مَوْعُودِها، إلا أدخله الله بها الجنة».

ترجمہ

ابو محمد عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”چالیس خصلتیں جن میں سب سے اعلیٰ و ارفع دودھ دینے والی بکری کا ہد یہ کرنا ہے ــــــــــــ ایسی ہیں کہ جو شخص ان میں سے کسی ایک خصلت پر بھی عمل پیرا ہوگا ثواب کی نیت سے اور اللہ کے وعدے کو سچا سمجھتے ہوئے، تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اسے جنت میں داخل کرے گا“۔

تشریح

رسول اللہ ﷺ نے امت کو نیکی پر ابھارا ہے اور اس کا عدد بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ چالیس خصلتیں ہیں تاہم ان کی نوعیتوں کو مبہم رکھا ہے سوائے ایک خصلت کے جو ان میں سب سے بلند تر ہے وہ یہ ہےکہ کسی انسان کے پاس (دودھ دینے والی) بکری ہو اور وہ اسے فقیر کو ہدیہ کر دے تاکہ وہ اس کے دودھ سے فائدہ حاصل کرے۔ جب اس کی ضرورت پوری ہو جائے تو مالک کو واپس کر دے۔اس سے یہ سمجھایا گیا ہے کہ اس طرح بہت سارے آسان اعمال ہیں کہ جس میں لوگ خیر کے معاملے میں ایک دوسرے سے سبقت لینے کی کوشش کریں۔

تشریح: العربية

رغَّب النبي صلى الله عليه وسلم أمته ببذل المعروف وذكر العدد وأنه أربعون خصلة، وأبهم النوع غير خصلة واحدة هي أعلاها، وهي: أن يكون عند الإنسان غنم فيمنح أنثاها لفقير لينتفع بحليبها، فإذا قضى حاجته منها أرجعها إلى صاحبها. ليفهم أن هذه الأعمال يسيرة وكثيرة، ليتنافس الناس في عمل الخير.

  • فضل الله -تعالى- بتكثير أعمال الخير وتنويعها، وقبول ما قل منها وما صغر.
  • وجوب اقتران العمل بالإيمان والاحتساب.
  • مشروعية منيحة العنز ، ويقاس عليه كل ما ينتفع به المسلم.
  • أن منيحة العنز أعلى خصال الخير الأربعين المبهمة في هذا الحديث، وهذا يحمل على الأزمنة السابقة ؛ لاعتنائهم بهذه الأمور وحاجتهم لها وكان الناس في شدة فرغب النبي صلى الله عليه وسلم بالمنائح ، ويَقرب من ذلك حديث: " بيت لا تمر فيه جياع أهله " ، أما الآن فكثير من الناس لا يملكون بهيمة الأنعام وليسوا بحاجة إليها؛ لأن عندهم ما يكفيهم من القوت.
  • ترغيب النبي -صلى الله عليه وسلم- ببذل المعروف.
  • تفاوت أجر الأعمال الأخروية.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید