حدیث

اللهُمَّ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ"۔ (اے اللہ! میں تیری رضا کے ذریعے تیری ناراضگی سے پناہ مانگتا ہوں اور تیرے عفو و کرم کے ذریعے تیری سزا سے پناہ مانگتا ہوں اور تیری ذات کے ذریعے تیرے قہر وغضب سے پناہ مانگتا ہوں۔ میں تیری تعریف کا شمار نہیں کر سکتا۔ تو ویسا ہی ہے، جیسا تو نے خود اپنی تعریف کى ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه مسلم

عربی متن

عَنْ عَائِشَةَ رضي الله عنها قَالَتْ: فَقَدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنَ الْفِرَاشِ فَالْتَمَسْتُهُ فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَى بَطْنِ قَدَمَيْهِ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ وَهُمَا مَنْصُوبَتَانِ، وَهُوَ يَقُولُ: «اللهُمَّ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ».

ترجمہ

عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں: مجھے ایک رات اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم بستر پر نہيں ملے۔ ڈھونڈنا شروع کیا، تو میرے ہاتھ آپ کے پیروں کے تلووں سے جا لگے۔ آپ مسجد میں (سجدے کی حالت میں) تھے اور آپ کے دونوں قدم کھڑے تھے۔ آپ فرما رہے تھے: "اللهُمَّ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ"۔ (اے اللہ! میں تیری رضا کے ذریعے تیری ناراضگی سے پناہ مانگتا ہوں اور تیرے عفو و کرم کے ذریعے تیری سزا سے پناہ مانگتا ہوں اور تیری ذات کے ذریعے تیرے قہر وغضب سے پناہ مانگتا ہوں۔ میں تیری تعریف کا شمار نہیں کر سکتا۔ تو ویسا ہی ہے، جیسا تو نے خود اپنی تعریف کى ہے۔"

تشریح

عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے بغل میں سوئی ہوئی تھی کہ رات میں آپ بستر پر نہیں ملے۔ میں نے دونوں ہاتھوں سے حجرے کی اس جگہ کو ٹٹولا، جہاں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نماز پڑھا کرتے تھے، تو پایا کہ آپ سجدے کی حالت میں ہیں، آپ کے دونوں قدم کھڑے ہيں اور کہہ رہے ہیں: "اللهُمَّ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ". یعنی اے اللہ! مجھے تیری رضا چاہیے۔ میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ تو مجھ پر یا میری امت پر ناراض ہو جائے۔ "وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ"۔ میں تیرے بے پایاں عفو و درگزر کے ذریعہ تیری سزا سے پناہ مانگتا ہوں۔ "وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ". میں تیری صفات جمالی کے وسیلے سے تیری صفات جلالی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ کیوں کہ تجھ سے پناہ بس تو ہی دے سکتا ہے۔ اللہ کے دربار کے علاوہ نہ کوئی بچ کر نکلنے کی جگہ ہے اور نہ کوئی پناہ گاہ۔ "لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ"۔ میں ہزار کوشش کے باوجود تیری ان نعمتوں اور احسانات کو کما حقہ شمار نہيں کر سکتا، جن سے تونے مجھے نواز رکھا ہے۔ "أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ"۔ تو ویسا ہی ہے، جیسا تونے اپنی تعریف کرتے ہوئے اپنے بارے میں بتایا ہے۔ تونے اپنی تعریف اپنے شایان شان انداز میں کی ہے۔ تیری تعریف کا حق دوسرا کوئی ادا کر نہیں سکتا۔

فوائد

  • سجدے میں ان دعاؤں کو پڑھنا مستحب ہے۔
  • میرک کہتے ہيں: نسائی کی ایک روایت میں ہے: آپ یہ دعا اس وقت کرتے، جب نماز سے فارغ ہو جاتے اور بستر پر چلے جاتے۔
  • اللہ تعالی کی صفات کے ذریعہ اللہ کی حمد وثنا بیان کرنا اور کتاب وسنت سے ثابت شدہ اسمائے گرامی کے ذریعہ اللہ سے دعا کرنا مستحب ہے۔
  • رکوع و سجود میں خالق کی تعظیم کرنے کی مشروعیت۔
  • جس طرح اللہ پاک وبرتر کی ذات کے ذریعہ پناہ طلب کرنا جائز ہے، اسی طرح اللہ تعالی کی صفات کے ذریعہ پناہ طلب کرنا بھی جائز ہے۔
  • خطابی کہتے ہیں: اس دعا کے اندر ایک باریک نکتہ موجود ہے۔ نکتہ یہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ سے اس کی ناراضگی سے اس کی رضا کی پناہ مانگی ہے اور اس کی سزا سے اس کے عفو ودرگزر کی پناہ مانگی ہے۔ رضا اور ناراضگی دونوں ایک دوسرے کی ضد ہيں۔ اسی طرح عفو ودرگزر اور سزا بھی ایک دوسرے کی ضد ہيں۔ لیکن جب آپ نے ایسی ہستی کا ذکر کیا، جس کی کوئی ضد نہيں ہے، یعنی اللہ سبحانہ و تعالی کا ذکر کیا، تو بس اسی کی پناہ مانگی۔ کسی اور کی نہيں۔ مطلب یہ کہ اللہ کی کما حقہ عبادت اور اس کی تعریف میں ہونے والی کوتاہی سے مغفرت طلب کی گئی ہے۔ دعا کے الفاظ "لا أحصي ثناء عليك" کے معنی ہیں: میں اس کی طاقت نہیں رکھتا اور یہ میرے بس کا کام نہيں ہے۔
تشریح: العربية

قالت عائشة رضي الله عنها: كنت نائمة إلى جنب النبي صلى الله عليه وسلم، ففقدته من الليل، فلمست بيدي الموضع الذي كان يصلي فيه في الحجرة؛ فإذا هو ساجد وقدماه قائمتان، وإذا هو يقول: (أعوذ) وأتوسل (برضاك من سخطك) عليّ أو على أمتي، (و) أستعيذ (بمعافاتك) وعفوك الكثير (من عقوبتك)، (وأعوذ بك منك) وبصفات جمالك من صفات جلالك، حيث لا يُعيذ منك إلا أنت، فلا مَنْجَى ولا مَلْجَأ من الله إلا إليه، (لا أحصي ثناء عليك) لا أطيق ولا أبلغ حصرًا وعددًا لعجزي إحصاء نعمتك وإحسانك كما تستحقه وإن اجتهدت في ذلك، (أنت كما أثنيت على نفسك) فأنت الذي أثنيت على ذاتك ثناء يليق بك، فمن يقدر على أداء حق ثنائك؟!

  • استحباب هذه الأدعية في السجود.
  • قال ميرك: وفي إحدى روايات النسائي: كان يقول هذا الدعاء إذا فرغ من صلاته وتبوأ مضجعه.
  • استحباب الثناء على الله بصفاته ودعائه بأسمائه الثابتة في الكتاب والسنة.
  • فيه تعظيم الخالق في الركوع والسجود.
  • جواز الاستعاذة بصفات الله، كما يجوز الاستعاذة بذاته -سبحانه وتعالى-.
  • قال الخطابي: في هذا الكلام معنى لطيف، وهو: أنه قد استعاذ بالله أن يجيره برضاه من سخطه، وبمعافاته من عقوبته، والرضى والسخط ضدان متقابلان، وكذلك المعافاة والمؤاخذة بالعقوبة، فلما صار إلى ذكر ما لا ضد له وهو الله سبحانه وتعالى استعاذ به منه لا غير، ومعنى ذلك: الاستغفار من التقصير من بلوغ الواجب من حق عبادته، والثناء عليه. وقوله: لا أحصي ثناء عليك: أي لا أطيقه ولا أبلغه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید