حدیث

رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا: کون سی نماز افضل ہے؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا: لمبے قیام والی نماز۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

وعن جابر رضي الله عنه قال: سُئِل رسول الله صلى الله عليه وسلم أي الصلاة أفضل؟ قال: «طُول القُنُوتِ».

ترجمہ

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا: کون سی نماز افضل ہے؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لمبے قیام والی نماز“۔

تشریح

صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے نبی ﷺ سے دریافت کیا کہ کون سی نماز سب سے زیادہ فضیلت والی ہے؟۔ یہ سوال اس لئے کیا گیا کیونکہ صحابہ کو اس بات کی چاہت تھی کہ وہ زیادہ سے زیادہ نیکیاں کر سکیں۔ اس سے مرادیہ ہے کہ: کس قسم کی نماز افضل ہے؟ یا پھر یہ مراد ہے کہ: نماز کا کون سا عمل افضل ہے؟ قیام کرنا یا رکوع کرنا یا سجدہ کرنا؟۔ چنانچہ آپ ﷺ نے بتایا کہ نماز میں لمبا قیام کرنا افضل عمل ہے۔

تشریح: العربية

سأل الصحابة رضوان الله عليهم النبي صلى الله عليه وسلم: أي الصلاة أفضل؟ وهذا السؤال من حرصهم على إصابة أكثر قدر من الحسنات، والمراد به: أي أنواع الصلوات أفضل؟ أو: أي أعمال الصلاة أفضل؟ القيام أم الركوع أم السجود؟ فأخبر صلى الله عليه وسلم أنه طول القيام فيها.

  • أن تطويل القيام في الصلاة أفضل من تطويل الركوع والسجود، على قول، وقيل طول السجود؛ لأن أقرب ما يكون العبد من ربه في حال السجود.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید