حدیث

کیا میں تمہیں ایسی چیزیں نہ بتاؤں، جن سے اللہ تعالی گناہوں کو مٹاتا اور درجات کو بلند کر دیتا ہے؟

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه مسلم

عربی متن

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَمْحُو اللهُ بِهِ الْخَطَايَا، وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ؟» قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ».

ترجمہ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کیا میں تمہیں ایسی چیزیں نہ بتاؤں، جن سے اللہ تعالی گناہوں کو مٹاتا اور درجات کو بلند کر دیتا ہے؟" صحابہ نے عرض کیا : ضرور، اے اللہ کے رسولﷺ؟ آپﷺ نے فرمایا : "ناگواری کے باوجود اچھی طرح وضو کرنا، مسجد تک زیادہ قدم چلنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا اور یہی رباط ( دشمنوں سے حفاظت کے لیے سرحد کی پہرہ داری کرنا ) ہے"۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ سے پوچھا کہ کیا وہ چاہتے ہیں کہ ان کی رہ نمائی ایسے اعمال کی جانب کی جائے، جو گناہوں کی بخشش، ان کو انسان کے اعمال لکھنے والے فرشتوں کے رجسٹر سے مٹا دیے جانے اور جنت میں اونچے درجات کے سبب بنتے ہوں؟ صحابہ نے عرض کیا : ضرور رہنمائی فرمائيں۔ آپ نے فرمایا : 1- پریشانی، جیسے ٹھنڈی، پانی کی کمی، جسمانی تکلیف اور پانی گرم ہونے کے باوجود پورے طور پر اور اچھی طرح وضو کرنا۔ 2- مسجدوں کی طرف زیادہ قدم چلنا۔ اس کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں۔ مسجد سے گھر دور ہو یا مسجد آنا جانا زیادہ ہو۔ حدیث میں آئے ہوئے لفظ "الخُطا" کے معنی دو قدموں کے درمیان کی دوری کے ہيں۔ 3۔ نماز کے وقت کا انتظار کرنا، اس میں دل کا اٹکا رہنا، اس کی تیاری کرنا اور اس کے لیے جماعت کے انتظار میں مسجد کے اندر بیٹھا رہنا۔ ایک نماز پڑھ لینے کے بعد مسجد میں بیٹھ کر دوسری نماز کا انتظار کرنا۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ دراصل یہی اعمال حقیقی مرابطہ (دشمن سے حفاظت کے لیے سرحد کی پہرے داری) ہیں۔ کیوں کہ یہ نفس کی طرف آنے والے شیطانی راستوں کو بند کرتے ہيں، خواہشات کو مغلوب کرتے ہيں اور نفس کو وسوسے قبول کرنے سے روکتے ہيں۔ اس طرح اللہ کا لشکر شیطان کے لشکر پر فتح یاب ہوتا ہے۔

فوائد

  • مسجد میں نماز باجماعت کی پابندی کرنے، نمازوں کا اہتمام کرنے اور ان سے غفلت نہ برتنے کی فضیلت و اہمیت۔
  • اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بہترین پیش کش اور اپنے صحابہ کو شوق دلانے کا عمدہ انداز کہ آغاز سوال کے انداز میں ایک بڑے ثواب سے کیا۔ دراصل یہ تعلیم کا ایک کارگر طریقہ ہے۔
  • سوال و جواب کے ذریعے کسی مسئلے کو پیش کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ کسی بات کو پہلے مبہم طور پر رکھنے اور اس کے بعد اس کی وضاحت کرنے سے بات دل میں نقش زیادہ ہوتی ہے۔
  • نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہی رباط ہے۔ یعنی یہی وہ رباط ہے، جس کی ترغیب دی گئی ہے۔ رباط کے اصل معنی کسی چیز پر روکے رکھنے کے ہیں۔ اس طرح کے انسان نے گویا خود کو طاعت و بندگی پر روک لیا۔ اس بات کی بھی گنجائش ہے کہ مراد یہ ہو کہ یہی افضل رباط ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے: جہاد در اصل نفس سےجہاد کرنا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد ممکن اور میسَّر رباط ہو۔ یعنی یہ کام کرنا بھی رباط کی ایک قسم ہے۔
  • لفظ رباط کا مکرر استعمال کیا گیا ہے اور اس پر "ال" لگایا گیا ہے جو کہ معرفہ بنانے کے لئے ہوتا ہے، تاکہ ان اعمال کی اہمیت وعظمت کو اجاگر کیا جائے۔
تشریح: العربية

سَألَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أصحابَه هل يُريدون أنْ يدلَّهم على أعمال تكون سببًا في مغفرة الذنوب، ومحوها من كُتب الحفظة، وعلو المنازل في الجنة؟ قال الصحابة: نعم نريد ذلك. قال: الأول: استيعاب وإتمام الوضوء على مشقة؛ كَبردٍ، وقلة ماء، وألم جسم، وماء حار. الثاني: كثرة الخُطا -وهي ما بين القدمين- إلى المساجد ببعد الدار، وكثرة التكرار. الثالث: انتظار وقت الصلاة، وتعلُّق القلب بها، والتأهب لها، والجلوس لها في المسجد لانتظار الجماعة، فإذا صلاها انتظر في مصلاه صلاةً أخرى. ثم بيَّنَ صلى الله عليه وسلم أنَّ هذه الأمور هي المرابطة الحقيقية؛ لأنها تسد طرق الشيطان على النفس، وتقهر الهوى، وتمنعها من قبول الوساوس، فيغلب بها حزبُ الله جنودَ الشيطان؛ وذلك هو الجهاد الأكبر، فكانت بمنزلة الرباط على ثغر العدو.

  • أهمية المحافظة على صلاة الجماعة في المسجد، والاهتمام بالصلوات وعدم التشاغل عنها.
  • حسن عرض النبي صلى الله عليه وسلم وتشويقه لأصحابه حيث بدأهم بثواب عظيم على طريقة السؤال، وهذه طريقة من طرق التعليم.
  • فائدة عرض المسألة بالسؤال والجواب: أن يكون الكلام أوقع في النفس بحكم الإبهام والتبيين.
  • قال النووي رحمه الله: فذلكم الرباط أي: الرباط المرغَّب فيه، وأصل الرباط الحبس على الشيء، كأنه حبس نفسه على هذه الطاعة، وقيل: إنه أفضل الرباط كما قيل: الجهاد جهاد النفس، ويحتمل أنه الرباط المتيسر الممكن، أي: إنه من أنواع الرباط.
  • كررت كلمة "الرباط" وعرفت ب(ال) التعريف؛ ذلك تعظيمٌ لشأن هذه الأعمال.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید