حدیث

”کیا میں تمھیں ایسا عمل نہ بتاؤں جو تمھارے سارے اعمال سے بہتر، تمھارے مالک کے ہاں سب سے زیادہ پاکیزہ، تمھارے درجات کو سب سے زیادہ بلند کرنے والا ہے،

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه الترمذي وابن ماجه وأحمد

عربی متن

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلاَ أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ، وَأَزْكَاهَا عِنْدَ مَلِيكِكُمْ، وَأَرْفَعِهَا فِي دَرَجَاتِكُمْ وَخَيْرٌ لَكُمْ مِنْ إِنْفَاقِ الذَّهَبِ وَالوَرِقِ، وَخَيْرٌ لَكُمْ مِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّكُمْ فَتَضْرِبُوا أَعْنَاقَهُمْ وَيَضْرِبُوا أَعْنَاقَكُمْ؟» قَالُوا: بَلَى. قَالَ: «ذِكْرُ اللهِ تَعَالَى».

ترجمہ

ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”کیا میں تمھیں ایسا عمل نہ بتاؤں جو تمھارے سارے اعمال سے بہتر، تمھارے مالک کے ہاں سب سے زیادہ پاکیزہ، تمھارے درجات کو سب سے زیادہ بلند کرنے والا ہے، تمھارے لیے سونا اور چاندی صدقہ کرنے سے زیادہ بہتر اور تمھارے لیے اس سے بھی زیادہ بہتر ہے کہ تمھارا مقابلہ تمھارے دشمن کے ساتھ ہو اور تم ان کی گردنیں اڑاؤ اور وہ تمھاری گردنیں اڑائیں؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا : کیوں نہیں! (ایسا عمل تو ضرور بتائیے) آپ نے فرمایا : ”(وہ ہے) اللہ تعالیٰ کا ذکر۔“

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا: کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمھیں بتادوں کہ تمھارے عزیز وبرتر مالک کے یہاں تمھارا کون سا عمل سب سے افضل، اشرف اور پاکیزہ ترین ہے؟ جنت میں تمھارے درجات کو سب سے زیادہ بلند کرنے والا ہے؟ اور جو تمھارے لیے سونا اور چاندی صدقہ وخیرات کرنے سے بہتر ہے؟ اسی طرح جو تمھارے لیے اس بات سے بھی بہتر ہے کہ میدان جنگ میں تمھارا سامنا کفار سے لڑائى کے لئے ہو اور تم ان کی گردنیں مارو اور وہ تمھاری گردنیں ماریں؟ صحابہ نے جواب دیا : ہم ضرور بالضرور اس چیز کو جاننا چاہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : تمام اوقات اور تمام حالات میں اللہ کا ذکر کرنا۔

فوائد

  • ہمیشہ ظاہری وباطنی ہر طرح سے اللہ تعالی کا ذکر کرتے رہنا عظیم ترین تقرب اور اللہ تعالی کے نزدیک مفید ترین عبادت ہے۔
  • تمام اعمال اللہ کے ذکر کے لیے مشروع کیے گئے ہیں۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے: "نماز میرے ذکر کے لیے قائم کرو۔" اسی طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "خانۂ کعبہ کا طواف اور صفا و مروہ کے درمیان سعی اللہ کا ذکر قائم کرنے کے لیے مشروع کی گئی ہے۔" اس حدیث کو امام ابو داود اور امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔
  • عز بن عبد السلام اپنے قواعد میں کہتے ہيں: یہ حدیث ان نصوص میں سے ہے، جو دلالت کرتے ہيں کہ ثواب تمام عبادتوں میں تکان کے بہ قدر ہی نہیں ملتا۔ کبھی کبھی اللہ تھوڑے اعمال میں کثیر اعمال سے زیادہ ثواب عطا کرتا ہے۔ ثواب اعمال کے شرف ومنزلت میں رتبوں کے تفاوت کے اعتبار سے ملتا ہے۔
  • مناوی فیض القدیر میں کہتے ہیں : اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ذکر ان لوگوں کے حق میں افضل تھا، جو اس وقت آپ کے سامنے موجود تھے۔ سامنے اگر ایسے بہادر لوگ موجود ہوتے، جو میدان جنگ میں پہنچ کر اسلام اور مسلمانوں کے حق میں مفید ہوتے، تو انھیں جہاد افضل عمل بتایا جاتا۔ اگر ایسے مال دار لوگ موجود ہوتے، جن کے مال سے غریبوں کو فائدہ ہوتا، تو انھیں افضل عمل صدقہ بتایا جاتا۔ حج کرنے کی طاقت رکھنے والے لوگ موجود ہوتے، تو ان کو حج افضل عمل بتایا جاتا۔ اگر ایسے لوگ ہوتے، جن کے والدین موجود ہوتے، تو انھیں ان کی خدمت کرنا افضل عمل بتایا جاتا۔ اس سلسلے میں وارد مختلف حدیثوں کے درمیان تطبیق دینے کا یہی طریقہ ہے۔
  • کامل ترین ذکر وہ ہے، جو زبان سے کیا جائے اور ساتھ میں دل غور و فکر کرے، پھر اس ذکر کا درجہ آتا ہے، جو دل سے کیا جائے، جیسے غور و فکر اور پھر وہ ذکر جو صرف زبان سے کیا جائے۔ بہر صورت ذکر ثواب کا کام ہے۔
  • ایک مسلمان کو مختلف اوقات کے اذکار، جیسے صبح و شام کے اذکار، مسجد، گھر اور بیت الخلا میں داخل ہونے اور نکلنے وغیرہ کے اذکار کا اہتمام کرنا چاہیے، جن کا اہتمام انسان کو کثرت سے اللہ کو یاد کرنے والوں کی صف میں لا کھڑا کر دیتا ہے۔
تشریح: العربية

سَألَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أصحابَه: هل تريدون أن أخبركم وأعلمكم بأفضل أعمالكم وأشرفها وأنماها وأطهرها وأنقاها عند الله المالك عز وجل؟ وأرفعها في منازلكم في الجنة؟ وخير لكم من التصدُّق بالذهب والفضة؟ وخير لكم من أن تَلْقَوا الكفارَ للقتال، فتضربُوا أعناقَهم، ويضربوا أعناقَكم؟ قال الصحابة: نعم نريد ذلك. قال صلى الله عليه وسلم: ذكر الله تعالى في كل الأوقات وعلى جميع الهيئات والحالات.

  • أن المداومة على ذكر الله تعالى ظاهرًا وباطنًا من أعظم القُرَب، وأنفعها عند الله تعالى.
  • جميع الأعمال إنما شُرعت لإقامة ذكر الله تعالى، قال الله تعالى: (وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي). وقال صلى الله عليه وسلم: إنَّما جُعل الطَّوافُ بالبيت وبين الصَّفا والمروة ورمي الجمار لإقامة ذكر الله تعالى. رواه أبو داود والترمذي.
  • قال العز بن عبدالسلام في قواعده: هذا الحديث مما يدل على أن الثواب لا يترتب على قدر النَّصَب في جميع العبادات بل قد يأجر الله تعالى على قليل الأعمال أكثرَ مما يأجر على كثيرها، فالثواب يترتب على تفاوت الرتب في الشرف.
  • قال المناوي في فيض القدير: هذا الحديث محمول على أن الذكر كان أفضل للمخاطبين به، ولو خوطب به شُجاع بَاسل حصل به نفع الإسلام في القتال لقيل له الجهاد، أو الغني الذي ينتفع به الفقراء بماله قيل له الصدقة، والقادر على الحج قيل له الحج، أو من له أبوان قيل له برهما، وبه يحصل التوفيق بين الأخبار.
  • أكمل الذكر ما نطق به اللسانُ مع تدبُّر القلب، ثم ما كان بالقلب وحده كالتفكر، ثم ما كان باللسان وحده، وفي كلٍّ أجرٌ إن شاء الله تعالى.
  • التزام المسلم بالأذكار المتعلقة بالأحوال كأذكار الصباح والمساء، ودخول المسجد والبيت والخلاء والخروج منها... وغير ذلك يجعله من الذاكرين الله كثيرًا.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید