حدیث

”پانچوں نمازیں، ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک اپنے مابین سرزد ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے“۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه مسلم

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول: «الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ، وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ، وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ، مُكَفِّرَاتٌ مَا بَيْنَهُنَّ إِذَا اجْتَنَبَ الْكَبَائِرَ».

ترجمہ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ فرمایا کرتے تھے: ”پانچوں نمازیں، ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک اپنے مابین سرزد ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے“۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بتا رہے ہیں کہ دن اور رات میں فرض پانچ نمازیں، ہر ہفتہ جمعے کی نماز اور ہر سال رمضان مہینے کے روزے، اس دوران کیے گئے چھوٹے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں، شرط یہ ہے کہ بڑے گناہوں سے اجتناب کیا جائے۔ رہی بات بڑے گناہوں جیسے شراب نوشی اور زنا وغیرہ کی، تو یہ توبہ کے بغیر معاف نہيں ہوتے۔

فوائد

  • گناہوں میں سے کچھ چھوٹے ہوتے ہیں اور کچھ بڑے۔
  • چھوٹے گناہوں کی معافی کے لیے بڑے گناہوں سے اجتناب شرط ہے۔
  • بڑے گناہ سے مراد وہ گناہ ہیں، جن کے کرنے پر دنیا میں کوئی حد نافذ ہوتی ہو، یا آخرت سے متعلق عذاب یا اللہ کی ناراضگی کی وعید آئی ہو، یا اس کے کرنے پر کوئی دھمکی دی گئی ہو یا اس کے کرنے والے پر لعنت کی گئی ہو۔ جیسے شراب نوشی اور زنا وغیرہ۔
تشریح: العربية

يخبر النبي صلى الله عليه وسلم أن الصلوات الخمس المفروضة في اليوم والليلة، وصلاة الجمعة كل أسبوع، وصوم شهر رمضان كل عام، مكفرات لما بينها من صغائر الذنوب بشرط اجتناب الكبائر، أما الكبائر كالزنا وشرب الخمر فلا تُكفر إلا بالتوبة.

  • الذنوب منها صغائر ومنها كبائر.
  • تكفير الصغائر مشروط باجتناب الكبائر.
  • الكبائر هي الذنوب التي ورد فِيهِا حد فِي الدُّنْيَا، أَو جَاءَ فِيهِا وَعِيد فِي الْآخِرَة؛ بالعَذَاب، أَو الغضب، أَو كان فيها تهديدٌ، أَو لعنٌ لفَاعلِها، كالزنى وشرب الخمر.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید