حدیث

اگر تو اسے اپنے ماموؤں کو دے دیتی تو تیرے لیے زیادہ اجر کا باعث ہوتا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أم المؤمنين ميمونة بنت الحارث رضي الله عنها : أنها أعتقت وَليدَةً ولم تستأذن النبي صلى الله عليه وسلم فلما كان يَومُها الذي يَدورُ عليها فيه، قالت: أشَعَرْتَ يا رسول الله، أني أعتقت وليدتي؟ قال: «أو فعلت؟» قالت: نعم. قال: «أما إنك لو أعطيتها أخوالك كان أعظم لأجرك».

ترجمہ

ام المؤمنین میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک لونڈی آزاد کر دی اور نبی کریم ﷺ سے (اس کی) اجازت نہیں لی۔ چنانچہ جب نبی کریم ﷺ کے ان کے پاس تشریف لانے (یعنی ان کی باری) کا دن ہوا تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے محسوس کیا کہ میں نے اپنی لونڈی آزاد کر دی ہے؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا (واقعی) تو نے ایسا کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو اسے اپنے مامووٗں کو دے دیتی تو تیرے لیے زیادہ اجر کا باعث ہوتا“۔

تشریح

ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا چونکہ یہ جانتی تھیں کہ اللہ کے راستے میں ٖغلام آزاد کرنے کی بڑی فضیلت ہے، اس لیے انہوں نے اپنی ایک باندی کو آزاد کر دیا۔ لیکن اس کی خبر نبی ﷺ كو نہیں دی تھی یا آپ سے اس کو آزاد کرنے کی اجازت نہیں مانگی تھی۔ لہٰذا جب ان کی باری تھی، تو انہوں نے آپ ﷺ کو اس کے بارے میں بتلادیا۔ آپ نے پوچھا: کیا (واقعی) تو نے ایسا کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ چنانچہ میمونہ رضى الله عنها نے آپ کی رائے لیے بنا جو کچھ کیا تھا اس پر آپ نے کوئی نکیر نہیں فرمائی، صرف اتنا فرمایا: ”اگر تو اسے اپنے مامؤوں کو دے دیتی تو یہ تیرے لیے زیادہ ثواب کا باعث ہوتا“۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ: تو نے اچھا کیا، لیکن اگر تو اسےبنی ہلال کے اپنے مامؤوں کو ہبہ کردیتی تو یہ زیادہ ثواب کا باعث ہوتا اور بہتر ہوتا، اس لئے کہ اس میں اپنے قریبی رشتہ دار پر صدقہ کرنے کے ثواب کے ساتھ صلہ رحمی کا بھی ثواب ہے۔

تشریح: العربية

أعتقت أم المؤمنين ميمونة رضي الله عنها جارية لها؛ لما عندها من العلم بفضل العتق في سبيل الله وكان ذلك دون أن تُخبر النبي صلى الله عليه وسلم أو تستأذنه في عتقها، فلما كان يوم نوبتها أخبرت النبي صلى الله عليه وسلم بما صنعت، فقال: أو فعلت ؟ قالت : نعم. فلم ينكر عليها ما صنعته دون أن تأخذ برأيه إلا أنه قال لها: أما إنك لو أعطيتها أخوالك كان أعظم لأجرك. ومعناه: حسنًا ما فعلت، إلا أنك لو وهبتها لأخوالك من بني هلال لكان ذلك أفضل وأكثر ثوابًا لما فيه من الصدقة على القريب وصلته.

  • جواز تصرف الزوجة في ملكها بغير إذن زوجها، ما لم تكن سفيهة.
  • الصدقة على القريب المسكين الذي يحتاج إلى الخدمة أفضل من العتق، لما فيه من الصدقة والصلة.
  • من وسائل تقوية روابط الزوجية ، أن تخبر الزوجة زوجها بما صنعت ، أو ما ترغب في عمله.
  • ينبغي للمسلم أن يسترشد بآراء أهل العلم، حتى يضع الأمور في مواضعها.
  • إثبات القَسْم بين الزوجات.
  • عدل النبي -صلى الله عليه وسلم- بين زوجاته في القَسْم.
  • عدم صحة الرجوع في العتق بعد الإعتاق، ولو ترتب على ذلك مصلحة راجحة.
  • حرص أمّ المؤمنين ميمونة -رضي الله عنها- على فعل الخير.
  • أن الأعمال تتفاضل في الثواب بحسب ما يترتب عليها من المنفعة.
  • فضيلة صلة الأرحام والإحسان إلى الأقارب.
  • فيه الاعتناء بأقارب الأم إكراماً لحقها، وهو زيادة في برها.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید