ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أبي هريرة رضي الله عنه : أن رجلًا أتى النبي صلى الله عليه وسلم يَتَقَاضَاهُ فَأغْلَظَ له، فَهَمَّ به أصحابه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «دَعُوه، فإن لِصَاحب الحَقِّ مَقَالا» ثم قال: «أعْطُوهُ سِنًّا مِثْل سِنِّهِ» قالوا: يا رسول الله، لا نَجِدُ إلا أمْثَلَ مِنْ سِنِّهِ، قال: «أعْطُوه، فإن خَيْرَكم أحْسَنُكُم قَضَاء».
ترجمہ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی اللہ کے نبی ﷺ سے اپنے قرض کا مطالبہ کرنے کے لیے آیا اور اس نے آپ ﷺ سے سختی سے مطالبہ کیا (اس گستاخی پر) صحا بہ کرام نے اس کو جھڑکا، رسول الله ﷺ نے (صحا بہ کرام سے ) فرمایا: اسے چھوڑ دو، اس لیے کہ حق دار کو کہنے کا حق حاصل ہے پھر آپ نے فرمایا، اسے اتنی عمر کا جانور دے دو جتنی عمر کا جانور اس کا تھا صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس جیسا تو ہم نہیں پاتے البتہ اس سے بہتر اور زیادہ عمر والا ہے آپ نےفرمایا: وہی اسے دے دو اس لیے کہ بہتر لوگ وہ ہیں جو اپنے قرض کی ادائیگی میں بہتر ہوں۔
تشریح
نبی ﷺ کے ذمہ ایک شخص کا قرض تھا ،آپ ﷺ نے اس آدمی سےایک چھوٹا اونٹ قرض کے طور پر لیا تھا (ایک دن) وہ آدمی آپ ﷺ سے اپنے قرض کا مطالبہ کرنے کے لیے آیا اور اس نے آپ ﷺ قرض کی واپسی کا سختی سے مطالبہ کیا۔ نبی ﷺ کے صحا بہ نے اس کو اس کی گستا خی اورتلخ کلامی پر زد و کوب کرنے کا ارادہ کیا۔ رسول الله ﷺ نے (صحا بہ کرام سے ) فرمایا: اسے چھوڑ دو، اور جو کہنا چاہتا ہے ادب کے دائرے میں کہنے دو، اس لیے کہ حق دار کو جس پر اس کا قرض باقی ہے اسے اس کی ادائیگی کے مطالبہ وغیرہ کا پورا پورا حق حاصل ہے، رہا مسئلہ گالی گلوج اور ایذا رسانی کا تو یہ ایک مسلمان کے اخلاق کے منافی ہے۔ پھر نبی ﷺ نے بعض صحا بہ کو حکم دیا کہ اسے اتنی عمر کا جانور دے دو. صحابہ نے عرض کیا ہم نہیں پاتے مگر اس سے زیادہ عمر والا اونٹ آپ نےفرمایا: اسے زیادہ عمر والا اونٹ ہی دے دو اس لیے کہ اچھے انسان لوگوں کے معاملات میں اور اجرو ثواب کے اعتبار سے بھی وہ ہیں جو اپنے قرض اور حقوق کی ادائیگی میں بہتر ہوں۔
تشریح: العربية
كان لرجل دين على النبي صلى الله عليه وسلم ، وكان النبي صلى الله عليه وسلم قد استقرض من ذلك الرجل ناقة صغيرة، فجاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم يطلب منه قضاء دَيْنِه وأغلظ عليه في طلبه، فأراد أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم أن يضربوه بسبب غلظته للنبي صلى الله عليه وسلم وسوء أدبه معه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : اتركوه يقول ما يشاء ولا تتعرضوا له بشيء؛ فإن صاحب الحق له حق في مطالبة غريمه بقضاء الدين ونحوه، لكن مع التزام أدب المطالبة، أما السَّب والشَّتم والتجريح، فليس من أخلاق المسلمين. ثم أمَر النبي صلى الله عليه وسلم بعض الصحابة أن يُعطيه بعيرًا مساويا لبعيره في السِّن. فقالوا: لا نجد إلا بعيرًا أكبر من بعيره. فقال: أعطوه بعيرًا أكبر من بعيره؛ فإن أفضلكم في معاملة الناس، وأكثركم ثوابًا أحسنكم قضاءً للحقوق التي عليه دينًا أو غيره.
- حسن خلق النبي -صلى الله عليه وسلم- وعظم حلمه وتواضعه وإنْصَافه.
- من عليه دين لا ينبغي له مجافاة صاحب الحق.
- جواز توكيل الحاضر في البلد بغير عذر.
- جواز التوكيل في قضاء الديون، ولا يُعَدُّ ذلك من المماطلة.
- الاقتراض في البر والطاعات وكذا في الأمور المباحة لا يُعَاب.
- جواز الاقتراض للحاجة.
- جواز استقراض الإبل ويلتحق بها جميع الحيوانات.
- الحث على حسن المعاملة، واللطف في القول ولو كان الإنسان صاحب حق.
- جواز المطالبة بالدَّين إذا حَلَّ أجله.
- يستحب لمن كان عليه دين أن يعطي الدائن زيادة على حقه عند وفائه، دون اشتراط الزيادة؛ لأن اشتراطها ربا.