حدیث

صحابہ کرام اور اہل صفہ رضی اللہ عنہم کی دنیا سے بے رغبتی

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: لَقَد رَأَيت سبعين من أهل الصُّفَّةِ، مَا مِنهُم رَجُل عَلَيه رِدَاء، إِمَّا إِزَار، وإِمَّا كِسَاء، قد رَبَطوا في أعناقِهم، فمنها ما يبلغُ نصف الساقين، ومنها ما يبلغ الكعبين، فَيَجْمَعُهُ بيده كَرَاهِيَةَ أن تُرى عورَتُه.

ترجمہ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ستر اصحاب صفہ کو دیکھا جن میں سے کسی ایک کے بدن پر بھی چادر نہ تھی، یا تو لنگی (تہہ بند) تھی، یا ایک ایسا کپڑا، جس کو گلے میں انہوں نے باندھ رکھا تھا۔ ان میں سے (لنگی، تہہ بند) کسی کے آدھی پنڈلی تک تھی، کسی کے ٹخنوں تک۔ اپنے ہاتھ سے وہ اس کو سمیٹے رہتے تھے تاکہ ستر نہ کھل جائے۔

تشریح

اہلِ صفہ نبی ﷺ کے وہ صحابہ ہیں جو غریب مہاجرین میں سے ہیں جنہوں نے اپنا گھر بار مکہ میں چھوڑ کر مدینہ کی طرف ہجرت کی باوجود اس کے کہ یہ ان کا محبوب ترین شہر تھا۔ اصحاب صفہ کی تعداد ستر افراد سے زیادہ تھی ۔ صفہ ایک سایہ دار چبوترا تھا جو مسجد نبوی کے آخر میں بنا ہوا تھا جس کے نیچے فقیر مہاجرین سویا کرتے تھے۔ گرمیوں یا سردیوں میں جو ان کا لباس ہوتا تھا اس کے بارے میں حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ جو خود بھی اصحابِ صفہ میں سے تھے ہمیں بتا رہے ہیں کہ ”کسی ایک کے بدن پر بھی چادر نہ تھی، یا تو لنگی (تہہ بند) تھی، یا ایک کپڑا“۔ کیونکہ اگر کوئی چاد باندھتا تو اس کے نیچے سے لنگی پہننی پڑتی۔ چادر سے مراد وہی ہے جسے آج کل جوڑا کہا جاتاہے ۔ ابوہریرۃ فرماتے ہیں کہ ان میں سے کسی کے پاس بھی پورا جوڑا نہیں تھا بلکہ ایک ہی کپڑا ہوتا جس سے وہ اپنے آپ کو اوپر سے لے کر نیچے تک چھپایا کرتے تھے۔ یہ کپڑا ایک چھوٹی سی لنگی کے مانند ہوتاہے۔ ابوہریرۃ فرماتے ہیں کہ ”جس کو گلے میں انہوں نے باندھ رکھا تھا“۔ یعنی وہ اس کپڑے کو اس طرح سے اپنے گلے میں باندھے رکھتے جیسے کوئی بچہ اپنے گلے میں اپنا کپڑا باندھ لیتاہے۔ ایسا وہ اس لیے کرتا کیونکہ وہ کپڑا اتنا زیادہ نہیں ہوتا تھا کہ وہ اسے الگ الگ کرکے پہن سکتا۔ چنانچہ اس کا ایک کنارہ اس کی گردن میں ہوتا۔اللہ تعالی ان سے راضی ہو۔ پھر ابو ہریرۃ نے فرمایا: ”وہ چادر کسی کے آدھی پنڈلی تک رہتی“ یعنی اس کپڑے کی لمبائی صرف اتنی ہوتی کہ وہ نصف پنڈلی تک آتا تھا اور ٹخنوں تک نہیں پہنچتا تھا۔ پھر فرمایا کسی کے ٹخنوں تک اور اپنے ہاتھ سے وہ اس کو سمیٹے رہتے تاکہ ستر نہ کھل جائے۔ یعنی دورانِ نماز وہ اسے اپنے آپ پر اکٹھا کرتے رہتے کہ مبادا حالت رکوع و سجدہ میں ان کی شرم گاہ نہ کھل جائے۔ رضی اللہ تبارک و تعالی عنہم اجمعین۔ اکثر صحابہ کی یہی حالت تھی۔ انہوں نے فقر اور ضرورت مندی میں اپنی زندگی گزار دی۔ دنیا اور اس کی زینت کی طرف ذرا بھی مائل نہ ہوئے ۔ اور جب دنیا ان پر کھلی (یعنی کشادگی آئی) تو تب بھی اس میں مصروف نہیں ہوئے بلکہ اپنی قناعت اور زہد پر قائم رہے یہاں تک کہ اللہ تعالی نے انہیں اپنے پاس بلا لیا۔

تشریح: العربية

أهل الصفة هم أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم من المهاجرين الفقراء الذين تركوا ديارهم وأموالهم في مكة وهاجروا منها إلى المدينة بعد أن كانت أحب البلاد إليهم. وكان أهل الصفة أكثر من سبعين رجلاً، والصفة سقيفة مظللة كانت موجودة في آخر مسجد النبي صلى الله عليه وسلم ينام تحتها هؤلاء الفقراء من المهاجرين. أما ثيابهم التي كانوا يرتدونها في الصيف وفي الشتاء فيخبرنا عنها أبو هريرة رضي الله عنه وقد كان أحد أصحاب الصفة فيقول: (ما منهم رجل عليه رداء إما إزار وإما كساء)، إذ إنه من أجل أن يلبس أحدهم رداء لا بد أن يلبس تحته إزارا فالرداء يقال عنه اليوم البدلة وكانت تسمى أيضا حُلة، وأبو هريرة يذكر أن أحدهم ما كان يلقى هذا الشيء، بل هو ثوب واحد يستر به نفسه من أعلى إلى أسفل يشبه ما يسمى اليوم الملاية القصيرة. قال أبو هريرة: (قد ربطوا في أعناقهم) أي: يربطها أحدهم في رقبته كما يربط الصبي ثوبه في رقبته؛ لأنه لا يكفيه الثوب الذي عليه أن يفصله ويلبسه، وإنما طرفه في رقبته رضي الله عنهم. ثم قال أبو هريرة: (فمنها ما يبلغ نصف الساقين) أي: أن الطول لهذا الثوب من المنكب إلى نصف الساقين، فلا يصل إلى الكعبين. ثم قال: (ومنها ما يبلغ الكعبين فيجمعه بيده كراهية أن ترى عورته) أي: أنه في أثناء الصلاة يلمه على نفسه حتى لا ترى عورته وهو راكع أو ساجد رضي الله تبارك وتعالى عنهم أجمعين. وهذا هو حال كثير من الصحابة رضي الله عنهم، فقد عاشوا على الفقر والحاجة ولم يركنوا إلى الدنيا وزينتها، حتى لما فتحت عليهم الدنيا لم ينشغلوا بها ، وظلوا على قناعتهم وزهدهم، حتى توفاهم الله تعالى.

  • جواز لبس الثوب الواحد.
  • جواز المبيت في المسجد.
  • زهد أهل الصفة وانقطاعهم للعلم والجهاد في سبيل الله.
  • فيه دليل على أنه ليس من شرط صحة الصلاة ستر العاتقين.
  • حرص المؤمن على ستر عورته.
  • فضيلة الصحابة رضي الله عنهم، وصبرهم على الفقر، وضيق الحال، والاجتزاء من اللباس على ما يستر العورة، وقد أثابهم الله على ذلك فاستخلفهم في الأرض، ومكن لهم دينهم وبدلهم من بعد فقرهم غنى، ومن بعد خوفهم أمنا مع ما أعد الله لهم في الآخرة من الثواب في الجنة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید