حدیث

اللہ تعالیٰ جب کسی امت پر رحم کرنا چاہتا ہے تو اس کے نبی کو فوت کر دیتا ہے اور اسے اس امت کے لیے آگے جا کر باعث اجر و پیش رو بنا دیتا ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي موسى الأشعري رضي الله عنه مرفوعاً: «إذا أراد الله تعالى رحمة أُمَّة، قَبض نبيَّها قبلها، فَجَعَلَهُ لها فَرَطًا وسَلفًا بين يديها، وإذا أراد هلَكَةً أُمَّة، عَذَّبَها ونَبِيُّهَا حَيٌّ ، فأهْلَكَها وهو حَيٌّ يَنظرُ، فأقرَّ عينَه بِهَلاَكِهَا حين كذَّبُوه وعَصَوا أمرَه».

ترجمہ

ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جب کسی امت پر رحمت نازل کرنا چاہتا ہے تو اس کے نبی کو فوت کر دیتا ہے اور اسے اس امت کے لیے آگے جا کر باعث اجر و پیش رو بنا دیتا ہے اور جب وہ کسی امت کی بربادی چاہتا ہے تو اس نبی کی زندگی میں ہی اس امت کو عذاب دیتا ہے۔ اور اس کی نظروں کے سامنے اسے برباد کردیتا ہے اور وہ اس کی ہلاکت سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہے۔کیوں کہ انھوں نے اسے جھٹلایا اور اس کی نافرمانی کی ہوتی ہے“۔

تشریح

اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالی جب امتوں میں سے کسی امت کے ساتھ بھلائی چاہتا ہے تو اس کے نبی کو وفات دے دیتا ہے اور اس کی امت اس کے بعد باقی رہتی ہے چنانچہ وہ جنت میں اسے اس امت کا پیش رو اور اس کے لیے اسے سفارشی بنا دیتاہے۔ فَرَط کا حقیقی معنی ہے وہ شخص جو کسی سفر پر جانے والوں کے آگے آگے رہتا ہے تاکہ ان کے پڑاو کے لیے ضروری جگہ تیارکرے۔ پھر اپنے بعد آنے والے کے لیے سفارشی کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”میں حوض کوثر پر تمہارا پیش رو ہوں گا“۔ یعنی تمہارے لیے پانی کی تلاش میں میں تم سے پہلے حوض کوثر پر پہنچوں گا۔ اور اللہ تعالی جب کسی امت کو ہلاک کرنا چاہتا ہے تو اسے اس حال میں عذاب دیتا ہے کہ اس کا نبی زندہ ہوتا ہے اور اس کی نظروں کے سامنے اسے ہلاک کرتا ہے۔ جیسا کہ نوح علیہ السلام کا اپنی قوم کے ساتھ یا دوسرے انبیاء کا اپنی قوموں کے ساتھ حال ہوا۔ اس مقام پر گویا نبی ﷺ اللہ تعالی کی اس امت پر رحمت کی خبر دے رہے ہیں اور آپ ﷺ ہی اس امت کو دی گئی رحمت ہیں۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ﴾ ”اور ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لیے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے“۔ اور اللہ تعالی نے وعدہ کیا کہ جب تک آپ ﷺ اس امت میں ہیں وہ اس پر عذاب نازل نہیں کرے گا اور ان پر اپنے فضل و کرم کی مزید عنایت کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ ۚ وَمَا كَانَ اللَّـهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ﴾ ”اور اللہ تعالیٰ ایسا نہ کرے گا کہ ان میں آپ کے ہوتے ہوئے ان کو عذاب دے اور اللہ ان کو عذاب نہ دے گا اس حالت میں کہ وه استغفار بھی کرتے ہوں“۔

تشریح: العربية

معنى هذا الحديث: أن الله تعالى إذا أراد خيرًا بأمة من الأمم قبض نبيها، وبقيت أمته بعده فيكون فرطها في الجنة، ويكون هو الشفيع لهذه الأمة. وأصل الفرط: هو الذي يتقدم الواردين ليهيئ لهم ما يحتاجون إليه عند نزولهم في منازلهم ثم استعمل للشفيع فيمن خلفه. وفي الحديث الآخر: قال صلى الله عليه وسلم : "أنا فرطكم على الحوض". أي: سابقكم لأرتاد لكم الماء. "وإذا أراد هلاك أمة عذبها ونبيها حي، فأهلكها وهو حي ينظر" كما وقع لنوح -عليه الصلاة والسلام- مع قومه وغيره من الأنبياء. فهنا النبي صلى الله عليه وسلم كأنه يخبرهم عن رحمة رب العالمين بهذه الأمة، وهو رحمة مهداة إلى هذه الأمة -صلوات الله وسلامه عليه-، فالله عز وجل قال: (وما أرسلناك إلا رحمة للعالمين)، وقد وعَدَ الله هذه الأمة ألا يعذبهم وهو فيهم صلى الله عليه وسلم ، وزادهم من فضله وكرمه، فقال تعالى : (وما كان الله ليعذبهم وأنت فيهم وما كان الله معذبهم وهم يستغفرون).

  • رحمة الله بهذه الأمة المحمدية زادها الله شرفًا؛ فإنها أمة مرحومة، حيث قبض نبيها قبلها.
  • اهتمام الأنبياء بأقوامهم وحرصهم على رعايتهم وإصلاح شؤونهم.
  • تعذيب الكفار وإهلاكهم فيه إقرار عين الأنبياء وأتباعهم.
  • فيه تطييب لقلب الرسول -صلى الله عليه وسلم- الذي دعا قومه إلى الخير، فقابلوه بالكفر.
  • هلاك من كذب رسل الله ولم يتبع ما جاءوا به من الحق.
  • نصرة الله تعالى للمظلوم ولو بعد حين، (حتى إذا استيأس الرسل وظنوا أنهم قد كذبوا جاءهم نصرنا) الآية.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید