ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن سهل بن سعد الساعدي ـرضي الله عنه- قَالَ رَسُول اللَّه -صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم-: «لو كانت الدنيا تَعدل عند الله جَناح بَعوضة، ما سَقَى كافراً منها شَرْبَة ماء».
ترجمہ
سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر دنیا اللہ کے ہاں مچھر کے پر کے برابر بھی حیثیت رکھتی تو وہ کافر کو اس سے ایک گھونٹ پانی بھی نہ پلاتا“۔
تشریح
اس حدیث میں اللہ کے ہاں دنیا کی حقارت کو بیان کیا گیا ہے کہ اللہ کے ہاں اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ اگر اللہ کے ہاں اس کی تھوڑی سی بھی قیمت ہوتی تو کافر کو اس سے ایک گھونٹ پانی نہ پلاتا، چہ جائیکہ کافر کواس دنیا میں نعمتوں سے نوازتا اور اس کو اس دنیا کی خوش گوار اشیاء سے لطف اندوز ہونے دیتا۔ اسی لیے دنیا اللہ کے ہاں حقیر ہے بخلاف آخرت کے کہ یہ خالص مومنوں کے حق میں دائمی نعمتوں کا گھر ہے کفار کےمقابلے۔ اسی لیے اہلِ ایمان پر لازم ہے کہ اس دنیا کی حقیقت کو پہچانیں اور اس کی طرف مائل نہ ہوں، اس لیے کہ یہ گزرگاہ ہے رہنے کی جگہ نہیں۔ چنانچہ یہاں سے اتنا ہی لیں جتنا کہ اپنی آخرت سنوار سکیں جو ان کا ہمیشگی کا گھر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَمَا أُوتِيتُم مِّن شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَزِينَتُهَا ۚ وَمَا عِندَ اللَّـهِ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ * أَفَمَن وَعَدْنَاهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِيهِ كَمَن مَّتَّعْنَاهُ مَتَاعَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ثُمَّ هُوَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْمُحْضَرِينَ﴾۔ ”اور تمہیں جو کچھ دیا گیا ہے وه صرف دنیوی زندگی کا سامان اور اسی کی رونق ہے، ہاں اللہ کے پاس جو ہے وه بہت ہی بہتر اور دیرپا ہے۔ کیا تم نہیں سمجھتے، کیا وه شخص جس سے ہم نے نیک وعده کیا ہے جسے وه قطعاً پانے واﻻ ہے مثل اس شخص کے ہوسکتا ہے؟ جسے ہم نے زندگانیٴ دنیا کی کچھ یونہی سی منفعت دے دی پھر بالآخر وه قیامت کے روز پکڑا باندھا حاضر کیا جائے گا“۔
تشریح: العربية
في الحديث بيان حَقَارة الدنيا عند الله وأنه لا قيمة لها، ولو كان لها أدنى قيمة عند الله تعالى ما سقى منها كافرًا شربة ماء، فضلا عن تنعمه بها وتلذذه بطيباتها، لذا كانت الدنيا هينة عند الله تعالى، بخلاف الآخرة، فإنها دار نعيم مقيم لأهل الإيمان خالصة لهم من دون الكفار، لذا ينبغي على أهل الإيمان أن يدركوا حقيقة هذه الدنيا وأن لا يركنوا إليها، فإنها دار ممر لا دار قرار، فيأخذون منها ما يتزودن به لآخرتهم التي هي دار القرار. قال تعالى: (وما أوتيتم من شيء فمتاع الحياة الدنيا وزينتها وما عند الله خير وأبقى أفلا تعقلون، أفمن وعدناه وعدًا حسنًا فهو لاقيه كمن متعناه متاع الحياة الدنيا ثم هو يوم القيامة من المحضرين).
- هوان الدنيا على الله وسقوطها عنده وكذلك طُلَّابها الذين أصبحت أكبر همهم ومبلغ عملهم.
- قيمة الدنيا بأن تجعل طريقاً للدار الآخرة ومستنبتاً للأعمال الصالحة.
- جواز ضرب المثل لتقريب المعنى للسامع.