حدیث

ہم پر دنیا وسیع کردی گئی، ہمیں تو ڈر ہے کہ کہیں دنيا ہی ميں ہماری نيکيوں کا جلدی بدلہ تو نہيں دے ديا گيا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف، أن عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه أُتي بطعام وكان صائمًا، فقال: قُتِل مُصعب بن عمير رضي الله عنه وهو خيرٌ مني، فلم يوجد له ما يُكفَّن فيه إلا بُردة إن غُطِّيَ بها رأسه بَدَت رِجْلاه؛ وإن غُطِّيَ بها رجلاه بدا رأسه، ثم بُسِط لنا مِنَ الدنيا ما بُسِط، أو قال: أُعْطِينا من الدنيا ما أُعطِينا، قد خَشِينَا أن تكون حَسَنَاتُنا عُجِّلَت لنا، ثم جعل يبكي حتى ترك الطعام.

ترجمہ

ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف رحمہ اللہ سے روايت ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پاس کھانا لایا گیا جب کہ آپ روزے سے تھے۔ آپ نے فرمایا: مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے اور وه مجھ سے بہتر تھے۔ ان کے کفن کے لیے صرف ايک چادر ميسر آئی، جس سے اگر ان کا سر ڈھانپا جاتا توان کے پير کھل جاتے اور اگر پير ڈھانپے جاتے تو سر کھلا رہ جاتا۔ پھر ہمارے لیے دنیا فراخ کردی گئی جو تم ديکھ رہے ہو، یا یہ فرمایا: ہمیں دنیا اتنی عطا کردی گئی ہے جو ظاہر ہے۔ ہمیں تو ڈر ہے کہ کہیں دنيا ہی ميں ہماری نيکيوں کا جلدی بدلہ تو نہيں دے ديا گيا؟ پھر رونے لگے يہاں تک کہ کھانا بھی چھوڑ ديا۔

تشریح

حدیث کا مفہوم: عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ایک دن روزے سے تھے۔ جب افطار کا وقت آیا تو ان کے لئے کھانا لایا گیا۔ روزہ دار کو عام طور پر کھانے کی چاہت ہوتی ہے۔ لیکن عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اولين صحابۂ کرام کے احوال کو یاد کیا۔ عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ خود بھی اولين اور مہاجرين صحابہ میں سے تھے، لیکن انہوں نے اپنے آپ کو کم تر سمجھتے ہوئے فرمایا کہ: مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ تواضع اور انکسارِ نفس میں مجھ سے بہتر تھے، یا وہ فقر اور صبر کو اختیار کرنے کے اعتبار سے مجھ سے بہتر تھے۔ ورنہ علماء نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ عشرۂ مبشرہ (انہيں ميں سے عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بھی ہيں) باقی صحابہ سے افضل ہیں۔ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اسلام لانے سے قبل اپنے والدین کے ساتھ مکہ میں رہتے تھے اور ان کے والدین بہت مالدار تھے۔ ان کے ماں باپ انہيں نو جوان لڑکوں کے بہترین لباس پہناتے تھے۔ انہوں نے بہت لاڈ پیار سے انہں پالا تھا، لیکن جب وہ اسلام لائے تو والدین نے انہیں چھوڑ دیا اور اپنے سے دور کردیا۔ یہ مہاجرین میں سے تھے، ان کے بدن پر پیوند لگے کپڑے رہتے تھے، جب کہ پہلے یہ اپنے والدین کے ساتھ مکہ میں بہترین کپڑے پہنا کرتے تھے، لیکن انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی خاطر ہجرت کرکے یہ سب چیزیں چھوڑ دیں۔ اُحد کے دن نبی ﷺ نے انہیں جھنڈا دیا اور وه اس میں شہید ہوگئے۔ ان کے پاس ایک چادر تھی، اس سے جب ان کا سر ڈھانپا جاتا تو کپڑا چھوٹا ہونے کی وجہ سے ان کے پیر نظر آتے، اور اگر ان کے پیر ڈھانپے جاتے تو سر کھل جاتا۔ تو آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اس سے ان کا سر ڈھانپ دیا جائے اوران کے پیر اذخر گھاس سے ڈھانپ دیے جائیں۔ اذخر ایک معروف گھاس ہے۔ حدیث مذکور میں عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ان کا حال یاد فرما رہے ہیں۔ پھر فرماتے ہيں کہ وہ لوگ چلے گئے اور ان کے بعد کے لوگوں پر اللہ نے جو دنيا کے مال و غنيمت کی فراخی کردی ہے اس سے وہ لوگ محفوظ ہوگئے ۔ جيسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَغَانِمَ كَثِيرَةً يَأْخُذُونَهَا﴾ ”اور بہت سی غنیمتیں جنہیں وہ حاصل کريں گے“۔ پھر عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہمیں اس بات کا خوف ہے کہ کہیں دنيا ہی ميں ہماری نيکيوں کا جلدی بدلہ تو نہيں دے ديا گيا؟“ یعنی ہمیں خوف ہے کہ کہيں ہم ان لوگوں کے زمرے میں تو نہيں داخل ہوگئے جن کے بارے میں کہا گیا ہے: ﴿مَّن كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاءُ لِمَن نُّرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلَاهَا مَذْمُومًا مَّدْحُورًا﴾ ”جس کا اراده صرف اس جلدی والی دنیا (فوری فائده) کا ہی ہو اسے ہم یہاں جس قدر جس کے لئے چاہیں سردست دیتے ہیں، بالآخر اس کے لیے ہم جہنم مقرر کردیتے ہیں جہاں وه برے حالوں دھتکارا ہوا داخل ہوگا“۔ یا جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُم بِهَا﴾ ”تم نے اپنی نیکیاں دنیا کی زندگی میں ہی برباد کر دیں اور ان سے فائدے اٹھا چکے“۔ جیسا کہ عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔ ان سب کی وجہ سے جب ان پر خوف غالب رہتا تھا تو آپ رضی اللہ عنہ کو ڈر لاحق ہوا کہ کہیں ان کی نیکیوں کا بدلہ انہیں دنیا ہی میں جلدی نہ دے دیا گیا ہو۔ اسی لیے وہ اس خوف اور خدشے سے رونے لگے کہ کہيں ایسا نہ ہو کہ وہ پہلے نیک لوگوں کے ساتھ شامل نہ ہوسکيں۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے کھانا چھوڑ دیا۔

تشریح: العربية

معنى هذا الحديث: أن عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه كان في يوم من الأيام صائمًا، ولما حان وقت الإفطار جيء له بالطعام، والصائم يشتهي الطعام عادة، ولكنه رضي الله عنه تذكر ما كان عليه الصحابة الأولون، وهو رضي الله عنه من الصحابة الأولين من المهاجرين رضي الله عنهم، لكنه قال احتقارًا لنفسه قال: إن مصعب بن عمير رضي الله عنه كان خيرا ًمني تواضعاً وهضما لنفسه، أو من حيثية اختيار الفقر والصبر، وإلا فقد صرح العلماء بأن العشرة المبشرة أفضل من بقية الصحابة. ومصعب رضي الله عنه كان قبل الإسلام عند والديه بمكة وكان والداه أغنياء، وأمه وأبوه يلبسانه من خير اللباس: لباس الشباب والفتيان، وقد دللاه دلالاً عظيماً، فلما أسلم هجراه وأبعداه، وهاجر مع النبي صلى الله عليه وسلم، فكان مع المهاجرين، وكان عليه ثوب مرقع بعدما كان في مكة عند أبويه يلبس أحسن الثياب، لكنه ترك ذلك كله مهاجراً إلى الله ورسوله. وأعطاه النبي صلى الله عليه وسلم الراية يوم أحد، فاستشهد رضي الله عنه، وكان معه بردة- أي ثوب- إذا غطوا به رأسه بدت رجلاه- وذلك لقصر الثوب- وإن غطوا رجليه بدا رأسه، فأمر النبي صلى الله عليه وسلم أن يستر به رأسه وأن تستر رجلاه بالإذخر؛ نبات معروف. فكان عبد الرحمن بن عوف يذكر حال هذا الرجل، ثم يقول: إنهم قد مضوا وسلموا مما فتح الله به من الدنيا على من بعدهم من المغانم الكثيرة، كما قال تعالى: ( ومغانم كثيرة يأخذونها ). ثم قال عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه: "قد خشينا أن تكون حسناتنا عجلت لنا" أي: خفنا أن ندخل في زمرة من قيل فيه: (من كان يريد العاجلة عجلنا له فيها ما نشاء لمن نريد ثم جعلنا له جهنم يصلاها مذمومًا مدحورًا) أو قوله تعالى: (أذهبتم طيباتكم في حياتكم الدنيا واستمتعتم بها). كما جاء عن عمر رضي الله عنه، وهذا لما كان الخوف غالباً عليهم فخشي رضي الله عنه أن تكون حسناتهم قد عجلت لهم في هذه الدنيا، فبكى خوفاً وخشية أن لا يلحق بمن تقدمه من الصالحين، ثم ترك الطعام رضي الله عنه.

  • تواضع الصحابة -رضي الله عنهم- وكمال فضلهم حيث كان أحدهم يرى نفسه آخر الناس، وإلا فعبد الرحمن بن عوف من المشرين بالجنة، وهو أفضل من مصعب لا سيما أن غناه كان وسيلة لنفع المسلمين -رضي الله عنهم أجمعين-.
  • الحث على التقلل من الدنيا وزينتها والحذر من التوسع في الدنيا من الاشتغال بها والتقصير عن الواجبات بسببها، وعدم شكر المنعم عليها بترك أداء ما وجب فيها من حقوق.
  • استحباب تذكر سِيَر الصالحين والزهاد ليقلل الإنسان من تمسكه بالدنيا.
  • بيان فضل السابقين الأولين كمصعب بن عمير وحمزة بن عبد المطلب وغيرهما ممن قتل في سبيل الله في أول الأمر.
  • ينبغي على المرء أن يذكر أصحابه وإخوانه بجميل فعالهم وحسن مناقبهم وأن يستغفر لهم وأن يتجنب ذكر ما يسوؤهم أو يتنقصهم.
  • شدة خوف الصحابة -رضي الله عنهم-، فهذا عبد الرحمن بن عوف وهو أحد المبشرين بالجنة كان صائما، وها هو يتذكر إخوانه من السابقين، وهو يخشى على نفسه ألا يتقبل منه، وأن تكون حسناته قد عجلت له في الدنيا.
  • ينبغي على المرء أن ينظر في الطاعة إلى من فوقه، وفي أمور الدنيا بمن دونه ليبقى حريصا على الاستكثار من الطاعة شاكرا لأنعم الله وجزيل فضله.
  • فيه ما كان عليه بعض الصحابة -رضي الله عنهم- من الفقر.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید