حدیث

”جہنم کو خواہشات سے ڈھانپ دیا گیا ہے اور جنت کو ناگوار چیزوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے“۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه البخاري

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «حُجِبَتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ، وَحُجِبَتِ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ».

ترجمہ

ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے: ”جہنم کو خواہشات سے ڈھانپ دیا گیا ہے اور جنت کو ناگوار چیزوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے“۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ دوزخ کو ایسی چیزوں سے گھیر دیا گیا ہے، جو نفس کو للچاتی ہیں، جیسے حرام کاموں کا ارتکاب اور واجبات میں کوتاہی۔ ایسے میں جس نے اپنے نفس کو اپنی خواہشات کے پیچھے لگا دیا، وہ جہنم کا حق دار بن گیا۔ جب کہ جنت کو ایسی چیزوں سے گھیر دیا گیا ہے، جو نفس کو ناپسند ہيں۔ جیسے اللہ کے احکام کو پابندی کے ساتھ ادا کرنا، حرام کاموں سے اجتناب کرنا اور اس راہ میں آنے والی پریشانیوں کو برداشت کرنا وغیرہ۔ جب انسان ان معاملوں میں اپنے نفس سے لڑتا ہے، توجنت میں داخل ہونے کے اسباب کو پالیتا ہے۔

فوائد

  • خواہشات میں پڑنے کا ایک سبب یہ ہے کہ شیطان غلط اور بری چیز کو خوب صورت بناکر پیش کرتا ہے، جس کی وجہ سے انسان کا نفس اسے اچھا سمجھ کر اس کی جانب مائل ہو جاتا ہے۔
  • حرام خواہشات سے دور رہنے کا حکم، کیوں خواہشات کی پیروی انسان کو جہنم کی جانب لے جاتی ہے۔ جب کہ ناپسندیدہ چیزوں کو برداشت کرنے کا حکم۔ کیوں کہ ناپسندیدہ چیزوں کو برداشت کرنا جنت کی جانب لے جاتا ہے۔
  • اپنے نفس سے لڑنے، خوب عبادت کرنے، ناپسندیدہ چیزوں کو برداشت کرنے اور ان پریشانیوں کا سامنا کرنے کی فضیلت، جو اطاعت کے کاموں کو کرتے وقت سامنے آتی ہیں۔
تشریح: العربية

يُبيِّنُ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنَّ النارَ مَحفوفةٌ مُحاطةٌ بالأمور التي تَشتَهيها النفس مِن فِعْل المحرّمات أو التقصير في الواجبات، فمن أَتْبعَ نفسَه هواها في ذلك استحقَّ النار. وأنَّ الجنةَ محفوفةٌ محاطةٌ بالأمور التي تَكرهها النفس؛ كالمُواظَبةِ على المأمورات وترك المحرمات والصبر على ذلك، فإذا صبر وجاهد نفسه على فعل الطاعة وترك المعصية؛ دخل الجنة.

  • من أسباب الوقوع في الشهوات تزيينُ الشيطانِ المنكرَ والقبيحَ، حتى تراه النفس حسنًا فتَميلُ إليه.
  • الأمر بالابتعاد عن الشهوات المحرمة؛ لأنها الطريق إلى النار، والصبر على المكاره؛ لأنها الطريق إلى الجنة.
  • فضل مجاهدة النفس والاجتهاد في العبادة والصبر على المكاره والمشاق التي تحيط بالطاعات.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید