حدیث

ہم ایک غزوے میں رسول اللہﷺ کے ہمراہ ںکلے۔ ہم چھ آدمی تھے اور ہمارے درميان ایک ہی اونٹ تھا جس پرہم باری باری سوار ہوتے تھے۔ اس سے ہمارے پاؤں زخمی ہوگئے تھے، میرا پاؤں بھی زخمی ہوگيا تھا

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أبي موسى رضي الله عنه قال: خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فِي غَزَاة ونحن سِتَّةُ نَفَرٍ بَيننا بعيرٌ نَعْتَقِبُهُ، فَنَقِبَتْ أقدامُنا وَنَقِبَت قَدَمِي، وسَقطت أَظْفَارِي، فكنَّا نَلُفُّ على أَرْجُلِنَا الْخِرَقَ ، فَسُمِّيَت غَزْوَة ذَاتُ الرِّقَاع لما كنَّا نَعْصِب على أرجُلنا من الخِرق، قال أبو بردة: فحدث أبو موسى بهذا الحديث، ثم كره ذلك، وقال: ما كنت أصنع بأن أَذْكُرَه! قال: كأنه كره أن يكون شيئا من عمله أفْشَاه.

ترجمہ

ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک غزوے میں رسول اللہﷺ کے ہمراہ ںکلے۔ ہم چھ آدمی تھے اور ہمارے درميان ایک ہی اونٹ تھا جس پرہم باری باری سوار ہوتے تھے۔ اس سے ہمارے پاؤں زخمی ہوگئے تھے، میرا پاؤں بھی زخمی ہوگيا تھا اورميرے ناخن گرگئے تھے۔ چنانچہ ہم لوگ اپنے پاؤں پر چیتھڑے لپیٹ لیتے تھے۔ اسی لیے اس غزوہ كا نام ہی غزوۂ ذات الرقاع (چیتھڑوں والا غزوہ) پڑ گیا۔ کیونکہ ہم اپنے پاؤں پر چیتھڑے باندھتے تھے۔ ابوبردہ بيان كرتے ہیں کہ ابوموسی نے يہ حدیث بیان کی، پھر اسے نا پسند فرمايا اور فرمايا کہ ميں اسے بيان کرنا نہيں چاہتا تھا۔ ابو بردہ کہتے ہيں کہ: گويا انہيں يہ بات ناپسند آئی کہ اپنے کسی عمل کو ظاہر کریں۔

تشریح

حدیث کا مفہوم: یہ ہے کہ ابوموسی رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے ساتھ ایک غزوے میں نکلے۔ ان کے ساتھ ان کے کچھ اور ساتھی بھی تھے جن کی تعداد چھے تھی۔ ان کے پاس ایک اونٹ تھا جس پر وہ باری باری سوار ہوتے، چنانچہ ان میں سے ایک آدمی کچھ فاصلے تک اس پر سوار ہوتا، پھر جب اس کی باری ختم ہوجاتی تو وہ اونٹ سے اتر جاتا اور دوسرا اس پر سوار ہوجاتا۔ اسى طرح سے وہ باری باری سوار ہوتے رہے یہاں تک کہ اپنی منزل مقصود تک پہنچ گئے۔ '' اس سے ہمارے پاؤں زخمی ہوگئے تھے، میرا پاؤں بھی زخمی ہوگيا تھا اورميرے ناخن گرگئے تھے۔'' ایسا صحرائی علاقے میں ایک لمبی مسافت تک پیدل چلنے کی وجہ سے ہوا۔ پاؤں پھٹنے پر ان کے پاس کوئی ایسی چيز بھی نہیں تھی جسے وہ لپیٹ لیتے۔ چنانچہ وہ ننگے پاؤں ہی چلتے رہے جس سے انہیں بہت تکلیف ہوئی، تاہم وہ اپنے سفر سے رکے نہیں بلکہ دشمن کا سامنا کرنے کے لئے رواں دوں رہے۔ ”ہم اپنے پاوں پر چیتھڑے لپیٹتے تھے“ اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ طولِ مسافت اور زمین کی قوت وسختی کی وجہ سے ان کے جوتے پھٹ گئے تھے۔ تو وہ اپنے پاؤں پر چیتھڑے لپیٹتے تھے تاکہ زمین کی سختی اور گرمی سے انہیں محفوظ رکھ سکیں۔ ”اس غزوے کا نام غزوۂ ذات الرقاع (چیتھڑوں والا غزوہ) پڑ گیا۔ کیونکہ ہم اپنے پاؤں پر چیتھڑے باندھ رکھے تھے“ یعنی رسول اللہﷺ کے اس غزوے کا نام بعد ميں غزوہ ذات الرقاع پڑگیا۔ اور يہ اس کی ايک وجہ تسميہ ہے۔ ابوبردہ کہتے ہیں: ”ابوموسی نے يہ حدیث بیان کی، پھر اسے نا پسند فرمايا اور فرمايا کہ ميں اسے بيان کرنا نہيں چاہتا تھا! ابو بردہ کہتے ہيں: گويا انہيں يہ بات ناپسند آئی کہ اپنے کسی عمل کو ظاہر کریں“ اس كا مطلب يہ ہے کہ ابوموسی رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد اس بات کی تمنا کی کہ کاش انہوں نے اسے بیان نہ کیا ہوتا کیونکہ اس میں خود ستائی کا اظہار ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ نیک عمل کو چھپانا اس کے اظہار سے افضل ہے الا يہ کہ اس کے اظہار میں کوئی مصلحت راجحہ ہو، مثلا بیان کرنے والا ایسا شخص ہو جس کی لوگ اقتدا کرتے ہوں۔ ایک دوسرى حدیث میں ہے: ”فَأَخْفَاهَا حَتَّى لا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ“. يعنى اس نے اسے (صدقہ کو) چھپاکر ديا یہاں تک کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی علم نہ ہوسکا کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے ۔ متفق علیہ

تشریح: العربية

معنى الحديث : أن أبا موسى رضي الله عنه خرج مع النبي -صلى عليه وسلم- في غزوة ومعه بعض أصحابه وعددهم ستة نَفَرٍ بينهم بعير يتعاقبونه، فيركبه أحدهم مسافة، ثم إذا انتهت نوبته نزل من البعير وركبه الآخر وهكذا يتناوبون الركوب، حتى وصلوا إلى مقصدهم. " فَنَقِبَتْ أقدامنا ونَقِبتْ قدمي، وسقطت أظفاري" بسبب المشي في أرض صحراوية مع بُعد المسافة، ولم يكن عندهم ما يستر أقدامهم لتمزقها؛ فكانوا يمشون حفاة، فحصل بذلك الضرر البليغ ومع هذا لم يتوقفوا عن مسيرهم، بل واصلوا السير للقاء العدو. "فكنَّا نَلُفُّ على أرجلنا الخِرَق" وهذا مما يدل على أن أحذيتهم قد تمزقت من طول المسافة وقوة الأرض وصلابتها؛ فكانوا يَلِفُّون على أقدامهم الخرق؛ لتحميهم من صلابة الأرض وحرارتها. "فسميت غزوة ذات الرقاع لما كنَّا نعصب على أرجلنا من الخَرِق". أي: أن هذه الغزوة التي غزاها النبي صلى الله عليه وسلم : سميت بعد ذلك بغزوة ذات الرِقَاع وهذا هو أحد الأسباب في تسميتها، قال أبو بردة: "فحدَّث أبو موسى بهذا الحديث، ثم كره ذلك، وقال: ما كنت أصنع بأن أذكره! قال: كأنه كره أن يكون شيئا من عمله أفشاه". والمعنى: أن أبا موسى رضي الله عنه بعد أن حدث بهذا الحديث تمنى أنه لم يحدِّث به؛ لما فيه من تزكية نفسه؛ ولأن كِتْمَان العمل الصالح أفضل من إظهاره إلا لمصلحة راجحة، كمن يكون ممن يُقتدى به. وفي الحديث الآخر: (فأخفاها حتى لا تَعلم شماله ما تنفق يمينه) متفق عليه.

  • بيان ما كان عليه الصحابة من التقشف وخشونة العيش وصبرهم على ذلك مع الرضا.
  • جواز التَعَاقب على البعير الواحد.
  • جواز ذكر العمل الصالح والتحدث بنعمة الله إذا لم يكن فيه رياء ولا سمعة وكان في ذكره تذكير ونفع للناس.
  • كراهة أن يذكر الإنسان ما فعله من عمل صالح خشية الوقوع في الرياء.
  • قوة تحمل الصحابة -رضي الله عنهم-.
  • فيه جواز المسح على اللفائف.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید