حدیث

تم سے پہلے لوگوں (پچھلی امتوں) میں سے ایک شخص کا حساب کیا گیا اور اس کے نامہ اعمال میں کوئی نیکی نہ ملی سوائے اس کے کہ وہ لوگوں سے لین دین کرتا اور ایک امیر شخص تھا۔ وہ اپنے ملازمین کو حکم دیتا کہ وہ تنگ دست سے درگزر کریں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہم ایسا کرنے کے اس سے زیادہ حق دار ہیں۔ اس سے درگزر کرو۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي مسعود البدري رضي الله عنه قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّه -صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم-: «حُوسِب رجُل ممن كان قَبْلَكُمْ، فلم يُوجد له من الخَيْر شيء، إلا أنه كان يُخَالط الناس وكان مُوسِراً، وكان يأمُر غِلْمَانَه أن يَتَجَاوَزُوا عن المُعْسِر، قال الله عز وجل : نحن أحَقُّ بذلك منه؛ تَجَاوزُوا عنه».

ترجمہ

ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے پہلے امتوں میں سے ایک شخص کا حساب کیا گیا اور اس کے نامۂ اعمال میں کوئی نیکی نہ ملی سوائے اس کے کہ وہ لوگوں سے لین دین کرتا اور ایک امیر شخص تھا۔ وہ اپنے ملازمین کو حکم دیتا کہ وہ تنگ دست سے درگزر کریں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہم ایسا کرنے کے اس سے زیادہ حق دار ہیں۔ اس سے درگزر کرو“۔

تشریح

”حُوسِب رجُل“ یعنی اللہ تعالیٰ نے ایک شخص سے اس کے آگے بھیجے گئے اعمال پر حساب لیا۔ "ممن كان قَبْلَكُمْ"۔ یعنی وہ پچھلی امتوں میں سے تھا۔ ”فلم يُوجد له من الخَيْر شَيء“ یعنی اس کے پاس کوئی ایسا نیک عمل نہ نکلا جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا باعث ہو۔ ”إلا أنه كان يُخَالط الناس وكان مُوسِرا“ یعنی وہ لوگوں سے خرید و فروخت اور لین دین کیا کرتا تھا اور امیر شخص تھا۔ ”وكان يأمُر غِلْمَانَه أن يَتَجَاوَزُوا عن المُعْسِر“ یعنی جب لوگوں سے ان کے ذمہ واجب الادا قرض وصول کرنے ہوتے تو وہ اپنے نوکروں سے کہتا کہ تنگ دست یعنی ایسے غریب قرض دار سے نرمی کے ساتھ معاملہ کریں جو قرض ادا کرنے پر قدرت نہ رکھتا ہو بایں طور کہ خوشحالی تک اسے مہلت دیں یا پھر اس کا کچھ قرض کم کردیں۔ ”قال الله -عز وجل-: نحن أحق بذلك منه؛ تَجَاوزُوا عنه“۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کے لوگوں سے اچھے سلوک،ان کے ساتھ مہربانی کا معاملہ کرنے اور ان کے لیے آسانی پیدا کرنے کے بدلے میں اسے معاف فرما دیا۔

تشریح: العربية

"حُوسِب رجُل" أي حاسبه الله تعالى على أعماله التي قدمها. "ممن كان قَبْلَكُمْ" من الأمم السابقة، "فلم يُوجد له من الخَيْر شَيء" أي: من الأعمال الصالحة المقربة إلى الله تعالى . "إلا أنه كان يُخَالط الناس وكان مُوسِرًا" أي يتعامل معهم بالبيوع والمداينة وكان غنياً. "وكان يأمُر غِلْمَانَه أن يَتَجَاوَزُوا عن المُعْسِر" أي: يأمر غلمانه عند تحصيل الديون التي عند الناس، أن يتسامحوا مع المُعسر الفقير المديون الذي ليس عنده القدرة على القضاء بأن ينظروه إلى الميسرة، أو يَحطوا عنه من الدَّين. "قال الله عز وجل : نحن أحق بذلك منه؛ تَجَاوزُوا عنه" أي: عفا الله عنه، مكافأة له على إحسانه بالناس، والرفق بهم، والتيسير عليهم.

  • فيه أن التسامح مع المَدِين المُعْسِر وتفريج كُرْبته من أفضل الأعمال.
  • الحث على مخالطة الناس والتعامل معهم.
  • شَرعُ من قبلنا شَرْعٌ لنا إذا لم يخالف شرعِنا.
  • الجزاء من جنس العمل.
  • الحث على التسامح مع المدين إما بالإنظار أو العفو الكلي.
  • فضل تيسير مصالح الناس.
  • جواز التعامل بالدَّين.
  • صحة تبرع الوكيل إذا كان بإذن المُوَكِّل.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید