حدیث

لوگوں میں سے سب سے اچھا وہ شخص ہے جس کی عمر لمبی ہو اور عمل بھی اچھا ہو۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عبد الله بن بُسْرٍ الأسلمي رضي الله عنه مرفوعاً: «خير الناس من طَال عُمُرُه، وحَسُنَ عَمَلُهُ».

ترجمہ

عبداللہ بن بسر اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”لوگوں میں سے سب سے اچھا وہ شخص ہے جس کی عمر لمبی ہو اور عمل بھی اچھا ہو“۔

تشریح

اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی انسان کی عمر اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں لمبی ہوتی ہے (گزرتی جاتی ہے) تو وہ اللہ تعالی سے زیادہ قریب ہوتا جاتا ہے کیونکہ اس کو کوئی بھی عمل کرنے کا موقع ملنے میں اس کی عمر بھی بڑھ جاتی ہے اور وہ عمل اسے اپنے اللہ سے اور زیادہ قریب کر دیتا ہے ، پس لوگوں میں سے بہترین ہے وہ شخص جسے یہ دونوں چیزیں عطا کی گئی ہوں یعنی لمبی عمر اور اچھا عمل۔ بہر حال لمبی عمر کسی انسان کے لیے خیر کی ضامن نہیں ہے الاّ یہ کہ وہ شخص اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عمل دونوں میں اچھا ہو؛ کیونکہ بعض اوقات لمبی عمر انسان کے لیے فتنے اور نقصان کا باعِث ہوتی ہے جیسا کہ ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ آپ ﷺ سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ اچھا کون ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا ”جس کی عمر لمبی اور عمل اچھا ہو“ پوچھا گیا کہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ بد تر شخص کون ہے؟ تو فرمایا ”جس کی عمر لمبی ہو اور عمل برا ہو“۔(ابو داود، ترمذی) اللہ تبارک وتعالی کا فرمان ہے: ﴿وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لِّأَنفُسِهِمْ ۚ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا ۚ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ﴾ ”کافر لوگ ہماری دی ہوئی مہلت کو اپنے حق میں بہتر نہ سمجھیں، یہ مہلت تو اس لیے ہے کہ وہ گناہوں میں اور بڑھ جائیں ان ہی کے لیے ذلیل کرنے والے عذاب ہے“۔ ان کافروں کو اللہ تعالیٰ نے ڈھیل دی ہوئی ہے کہ انھیں رزقِ وافر ، عافیت ، درازیٔ عمر اور بیوی بچے عطا کر رکھے ہیں، اس میں ان کے لیے کوئی بھلائی نہیں ہے بلکہ یہ ان کے لیے باعثِ فتنہ ہے۔ اللہ کی پناہ! کہ اس فراوانی سے وہ مزید گناہوں میں گِھر جائیں گے۔ طیبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”اوقات اور گھڑیاں تاجر کے بنیادی سرمائے (پونجی) کی طرح ہیں پس چاہیے کہ تجارت اس طرح کی جائے کہ حصولِ نفع کے باعث ہو، سرمایہ جتنا بڑھتا جائے گا نفع بھی زیادہ ہوتا جائے گا ، جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق زندگی بسر کرے وہ کامیاب ہو گا اور فلاح پائے گا اور جس نے اپنا سرمایا (پونجی) ضائع کیا وہ نفع نہیں پائے گا اور سخت گھاٹے میں رہے گا“۔

تشریح: العربية

معنى هذا الحديث : أن الإنسان كلما طال عمره في طاعة الله ازداد قربا من الله؛ لأن كل عمل يعمله فيما زاد فيه عمره، فإنه يقربه إلى ربه -عز وجل - فخير الناس من وفق لهذين الأمرين: طول العمر وحسن العمل. فطول العمر ليس خيرًا للإنسان إلا إذا حسن عمله في طاعة الله؛ لأنه أحيانًا يكون طول العمر شرًا للإنسان وضررًا عليه، كما في الحديث الآخر، أي الناس خير، قال: « من طال عمره، وحسن عمله »، قال: فأي الناس شر؟ قال: « من طال عمره وساء عمله »، رواه أبو داود والترمذي. وقال الله -تبارك وتعالى-: (ولا يحسبن الذين كفروا أنما نملي لهم خير لأنفسهم إنما نملي لهم ليزدادوا إثمًا ولهم عذاب مهين)، فهؤلاء الكفار يملى الله لهم، أي يمدهم بالرزق والعافية وطول العمر والبنين والزوجات، لا لخير لهم ولكنه شر لهم، والعياذ بالله لأنهم سوف يزدادون بذلك إثمًا. قال الطيبي -رحمه الله -: إن الأوقات والساعات كرأس المال للتاجر، فينبغي أن يتجر فيما يربح فيه، وكلما كان رأس المال كثيرا كان الربح أكثر، فمن مضى لطيبه فاز وأفلح، ومن أضاع رأس ماله لم يربح وخسر خسرانا مبينا".

  • فضل طول العمر إذا اقترن بحسن العمل، فإنه يتزود من الطاعات التي تقربه إلى الله، وشر الناس من طال عمره وساء عمله.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید