ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بنِ مسعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ نَامَ لَيْلَهُ حَتَّى أَصْبَحَ، قَالَ: «ذَاكَ رَجُلٌ بَالَ الشَّيْطَانُ فِي أُذُنَيْهِ، أَوْ قَالَ: فِي أُذُنِهِ».
ترجمہ
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ کے پاس اس آدمی کا ذکر کيا گيا جو رات کو سویا اور صبح ہونے تک سویا رہا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ایسا آدمى ہے کہ شیطان نے پیشاب کر دیا اس کے دونوں کانوں میں، یا فرمایا: جس کے کان میں“۔
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے ایک شخص کا ذکر ہوا کہ وہ سورج نکلنے تک سویا رہا اور فرض نماز کے لیے اٹھا ہی نہیں۔ تو آپ نے فرمایا: بے شک وہ ایسا شخص ہے کہ شیطان نے اس کے کان میں پیشاب کر دیا۔
فوائد
- قیام الليل كو ترک کرنا مکروہ ہے اور یہ شیطان کے سبب ہوتا ہے۔
- شیطان سے خبردار رہنا چاہیے، جو انسان کے ہر راستے میں بیٹھ کر اسے اللہ کی اطاعت سے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔
- ابن حجر کہتے ہیں: حدیث کے الفاظ "ما قام الی الصلاۃ" سے مراد جنس ہے۔ ویسے اس بات کا بھی احتمال ہے کہ الف لام عہد ذہنی کے ہوں اور مراد رات کی نماز یا فرض نماز ہو۔
- طیبی کہتے ہیں: یہاں بطور خاص کان کا ذکر نیند کی گہرائی کی جانب اشارہ کرنے کے لیے کیا گیا ہے، اگرچہ نیند کی مناسبت سے آنکھ کا ذکر زیادہ مناسب تھا۔ کیوں کہ کان آگاہی کا ذریعہ ہے۔ پھر بطور خاص پیشاب کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ یہ آسانی سے پیٹ کے اندر داخل ہو جاتا ہے، رگوں میں تیزی سے سرایت کر جاتا ہے اور تمام اعضا کو سست بنا دیتا ہے۔
تشریح: العربية
ذُكِرَ عند النبيِّ صلى الله عليه وسلم رَجلٌ نام حتى أصبح وطَلَعت الشمس ولم يَقم إلى الصلاة المفروضة، فقال صلى الله عليه وسلم: إنه رجل بَالَ الشيطانُ في أُذُنِهِ.
- كراهية ترك قيام الليل، وأنّ ذلك بسبب الشيطان.
- الحَذَر من الشيطان الذي يَقعد للإنسان في كل طريق؛ لِيَحُوْلَ بينه وبين طاعة الله عز وجل.
- قال ابن حجر: قوله: (ما قام إلى الصلاة) المُراد الجِنْس، ويحتمل العهد، ويراد به صلاة الليل أو المكتوبة.
- قال الطيبي: خص الأذن بالذِّكْر، وإن كانت العين أنسب بالنوم إشارة إلى ثقل النوم، فإن المسامع هي موارد الانتباه، وخص البول؛ لأنه أسهل مدخلًا في التجاويف، وأسرع نفوذًا في العروق، فيورث الكسل في جميع الأعضاء.