حدیث

”اللہ ایسے شخص پر رحم کرے، جو بیچتے، خریدتے اور مطالبہ کرتے وقت فیاضی اور نرمی سے کام لیتا ہے“۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه البخاري

عربی متن

عن جابر رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «رَحِمَ اللهُ رَجُلًا سَمْحًا إِذَا بَاعَ، وَإِذَا اشْتَرَى، وَإِذَا اقْتَضَى».

ترجمہ

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”اللہ ایسے شخص پر رحم کرے، جو بیچتے، خریدتے اور مطالبہ کرتے وقت فیاضی اور نرمی سے کام لیتا ہے“۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ہر اس شخص کے لیے رحمت کی دعا کی ہے، جو کچھ خریدتے بیچتے وقت نرمی اور فراخی سے کام لے چنانچہ خریدنے والے کے ساتھ سامان کی قیمت کے سلسلے میں سختی سے کام نہ لے اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔ اور اسى طرح خریدتے وقت بھی نرمی‘ سخاوت اور فراخی سے کام لے اور سامان کا بھاؤ کم نہ دے۔ اسی طرح قرض کا مطالبہ کرتے وقت بھی نرمی‘ سخاوت اور فراخی سے کام لے اور کسی تنگ دست اور محتاج کے ساتھ سختی سے کام لینے کی بجائے نرمی سے قرض کا مطالبہ کرے اور نادار ہونے پر مہلت بھی دے۔

فوائد

  • اسلامی شریعت کا ایک مقصد ایسی باتوں کی حفاظت کرنا ہے جو مسلمانوں کے آپسی تعلقات کو خوش گوار رکھتی ہیں۔
  • خرید و فروخت وغیرہ جیسے معاملات میں لوگوں کے ساتھ اعلی اخلاق کا مظاہرہ کرنے کی ترغیب۔
تشریح: العربية

دعا النبي صلى الله عليه وسلم بالرحمة لكل من كان: سهلًا جَوَادًا سَخِيًّا في بيعِه، فلا يُشدِّد على المشتري في سعرها ويعامله بخُلُقٍ حَسَن. سهلًا جوادًا سَخِيًّا إذا اشترى، فلا يَبْخَس ويُقَلِّل من قيمة البِضَاعَة. سهلًا جوادًا سخيًا إذا طَالَبَ بقضاءِ الدُّيون التي له، فلا يُشدِّد على الفقير والمُحتاج، بل يُطالِبه برفق ولُطف، ويُنْظِر المُعسر.

  • مِن مَقاصد الشريعة الحِفاظ على ما يُصلِحُ العلاقاتِ بين الناس.
  • الترغيب في استعمال معالي الأخلاق في المعاملات بين الناس من البيع والشراء ونحو ذلك.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید