حدیث

اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھے اور نماز پڑھے اور اپنی بیوی کو بھی بیدار کرے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے، اللہ تعالیٰ اس عورت پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھے اور اپنے شوہر کو بھی جگائے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

حَسَنْاسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «رَحِمَ الله رجلا ًقام من الليل، فَصَلى وأيْقَظ امرأته، فإن أَبَتْ نَضَحَ في وَجْهِهَا الماء، رَحِمَ الله امرأة قامت من الليل، فَصَلت وأَيْقَظت زوجها، فإن أَبَى نَضَحَت في وجْهِه الماء».

ترجمہ

ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھے اور نماز پڑھے اور اپنی بیوی کو بھی بیدار کرے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے، اللہ تعالیٰ اس عورت پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھے اور اپنے شوہر کو بھی جگائے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے۔“

تشریح

آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص رات کو اٹھ کر نماز پڑھتا ہے اور اپنی بیوی کو نماز کے لیے جگاتا ہے اور وہ نیند کے غلبے یا زیادہ سستی کی وجہ سے نہیں جاگتی تو اس کے چہرے پر پانی کے ہلکے چھینٹے مارتا ہے، یہ شخص اللہ تعالیٰ کی رحمت کا مستحق ہے، اسی طرح اگر عورت اپنے شوہر کے ساتھ ایسا کرے تو وہ بھی رحمت کی مستحق ہوتی ہے۔

تشریح: العربية

أخبر النبي صلى الله عليه وسلم أن من قام من الليل فصلى وأيقظ زوجته للصلاة، فامتَنَعت من الاستيقاظ؛ لغَلَبة النوم، وكثرة الكسل؛ فرش على وجْهِها الماء رشًا خفيفًا؛ فإنه مستحق لرحمة الله تعالى وكذا العكس إذا فعلت المرأة ذلك مع زوجها.

  • الحث على التعاون على الطاعة والعمل الصالح.
  • استحباب إيقاظ كل من الزوجين الآخر لقيام الليل، والاستعانة على ذلك بما يُذهب عنه النوم الغالب.
  • إشارة إلى أن الرَجُل والمرأة في العبادة سواء، إلا ما دل الدليل على التفريق بينهما.
  • أن من أصاب خيراً ينبغي له أن يتحرى إصابة الغير، وأن يُحب له ما يُحب لنفسه، فيأخذ بالأقرب فالأقرب.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید