حدیث

’’ناک خاک آلود ہو، پھر ناک خاک آلود ہو، پھر ناک خاک آلود ہو"۔ کسی نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! آپ کس کی بات کر رہے ہيں؟ آپ نے فرمایا : "اس شخص کی جس نے اپنے والدین کو بڑھاپے میں پایا، ان ميں سے کسی ایک کو یا دونوں کو، پھر (ان کی خدمت کرکے) جنت میں داخل نہ ہوسکا۔‘‘

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه مسلم

عربی متن

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «رَغِمَ أَنْفُ، ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ، ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ»، قِيلَ: مَنْ؟ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «مَنْ أَدْرَكَ أَبَوَيْهِ عِنْدَ الْكِبَرِ، أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَيْهِمَا فَلَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’ناک خاک آلود ہو، پھر ناک خاک آلود ہو، پھر ناک خاک آلود ہو"۔ کسی نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! آپ کس کی بات کر رہے ہيں؟ آپ نے فرمایا : "اس شخص کی جس نے اپنے والدین کو بڑھاپے میں پایا، ان ميں سے کسی ایک کو یا دونوں کو، پھر (ان کی خدمت کرکے) جنت میں داخل نہ ہوسکا۔‘‘

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی کے حق میں ذلت اور رسوائی کی بد دعا کرتے ہوئے ناک خاک آلود ہونے تک کی بات کہہ ڈالی اور یہ بات تین بار کہی۔ کسی نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! یہ بد دعا آپ کس کے حق میں فرما رہے ہيں؟ آپ نے کہا : جس نے اپنے والد اور والدہ دونوں یا دونوں میں سے ایک کو بڑھاپے میں پایا اور دونوں کو اپنے لیے جنت میں داخل ہونے کا سبب نہيں بنا سکا۔ کیوں کہ نہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا اور نہ ان کی فرماں برداری کی۔

فوائد

  • والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ضروری ہے۔ ان کی فرماں برداری دخول جنت کا سبب ہے۔ خاص طور سے ان کے بڑھاپے میں اور کمزوری کی حالت میں۔
  • والدین کی نافرمانی کبیرہ گناہ ہے۔
تشریح: العربية

دَعا النبيُّ صلى الله عليه وسلم بالذّل والخِزْي حتى بلغ به كأنه وضع أنفَه في التراب -كررها ثلاثًا- فسُئِل: مَن هذا يا رسول الله الذي دعوتَ عليه؟ فقال صلى الله عليه وسلم: من أدرك والديه عند الكبر -أحدهما أو كليهما-، فلم يكونَا سببًا بدخوله الجنة؛ وذلك بسبب عدم الإحسان إليهما وعقوقهما.

  • وجوب بِرِّ الوالدين وأنه من أسباب دخول الجنة، خصوصًا عند كبرهما وضعفهما.
  • عقوق الوالدين من كبائر الذنوب.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید