حدیث

عنقریب علاقے تمہارے لئے فتح کردیے جائیں گے اور (دشمنوں کے مقابلے میں) اللہ تمہارے لیے کافی ہو جائے گا چنانچہ تم میں سے کوئی بھی اپنے تیروں سے کھیلنے میں سستی نہ کرے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عقبة بن عامر رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «سَتُفْتَحُ عليكم أَرَضُونَ، ويكفيكم الله، فلا يَعْجِزْ أحدكم أن يَلْهُوَ بِأَسْهُمِه».

ترجمہ

عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: عنقریب علاقے تمہارے لئے فتح کردیئے جائیں گے اور (دشمنوں کے مقابلے میں) اللہ تمہارے لئے کافی ہو جائے گا چنانچہ تم میں سے کوئی بھی اپنے تیروں سے کھیلنے میں سستی نہ کرے۔

تشریح

نبی ﷺ اپنے صحابہ کو خبر دے رہے ہیں کہ عنقریب علاقے بغیر لڑے ان کے لئے فتح ہوجائیں گے۔ چنانچہ ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ تیر اندازی سیکھنے میں سستی نہ کریں۔ یہ وہ سب سے بہترین مشغلہ ہے جس میں مسلمانوں کو مصروف رہنا چاہیے جب تکہ کہ اس میں کسی حقِ واجب کا ضیاع نہ ہو کیوں کہ یہ ایک ایسی شے ہے جو جہاد فی سبیل اللہ مین معاون ہوتی ہے جو کہ نہایت افضل مقصد اور بلند مرتبہ غایت ہے۔ ”لہو“ کا لفظ استعمال کیا گیا کیوں کہ دلوں میں فطری طور پر لہو و لعب کی محبت ہوتی ہے چنانچہ پیرایۂ تعبیر میں اس لفظ کو استعمال کیا گیا ورنہ تیر اندازی سیکھنے کا سب سے بڑا مقصد تو جہاد فی سبیل اللہ کی تیاری کرنا ہے نہ کہ محض لہو و لعب۔

تشریح: العربية

يخبر النبي صلى الله عليه وسلم أصحابه بأنه سَتُفتح عليهم البلاد من غير اقتتال، فعليهم أن لا يعجِزوا عن تَعَلُّم الرَّمي بالسهام، فإن ذلك من أولى ما يَلهو به المسلمون، -ما لم يُضَيَّع به حقًا واجبًا-؛ لأن ذلك مما يُعينهم على الجهاد في سبيل الله، وذلك من أفضل المقاصد وأسمى الغايات. وإنما كان التعبير باللهو؛ لأن النُّفوس مَجْبُولة على حُبِّه فعبر به، وإلا فإن المقصود الأعظم من تعلمه، هو: الإعداد في سبيل الله تعالى ، لا مجرد اللعب به.

  • النَّدب إلى الرَّمي والتَّمرن عليه، ولو في غير وقت الحاجة إليه.
  • دعوة الإسلام إلى الإعداد، والاستعداد، حتى في أوقات السلم؛ تحسباً لكل طارئ.
  • من دلائل النبوة إخبار الرسول -صلى الله عليه وسلم- بما سيفتح على أمته من البلاد.
  • الجهاد من أسباب كفاية الناس في معاشهم، وسعة أرزاقهم؛ لأن رزق هذه الأمة تحت رماحها، وليس في تخلفها وتثقلها إلى الأرض.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید