حدیث

اللہ کی راہ میں جہاد کرو۔ جو لمحہ بھر بھی اللہ کی راہ میں جہاد کیا اس کے لئے جنت واجب ہو گئی۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

حَسَنْاسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: مَرَّ رجُل من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم بِشِعبٍ فيه عُيَيْنَةٌ من ماء عَذْبَة، فأعْجَبتْه، فقال: لو اعْتَزلت الناس فَأقَمْتُ في هذا الشِّعْبِ، ولنْ أفعل حتى أسْتأذِن رسول الله صلى الله عليه وسلم فذَكر ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: «لا تَفْعَل؛ فإن مُقام أحدِكم في سَبِيل الله أفضل من صلاته في بيته سَبْعِين عاماً، ألا تُحِبُّونَ أن يَغْفِر الله لكم، ويدخلكم الجنة؟ اُغْزُوا في سبيل الله، من قَاتَل في سبيل الله فُوَاقَ نَاقَةٍ وجَبَت له الجنة».

ترجمہ

ابو ھریرۃ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ: رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے ایک شخص کا ایک گھاٹی پر سے گزر ہوا جس میں میٹھے پانی کا چھوٹا سا چشمہ تھا۔ اسے یہ بہت پسند آیا اور اس نے سوچا کہ کتنا ہی اچھا ہو اگر میں لوگوں سے الگ ہو کر اس گھاٹی میں بسیرا کر لوں تاہم ایسا میں تب تک نہیں کروں گا جب تک کہ رسول اللہ ﷺ سے اجازت نہ لے لوں۔ چنانچہ اس نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ایسا نہ کرو۔ تم میں سے کسی شخص کا اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے کھڑا ہونا اس کا اپنے گھر میں ستر سال تک نماز پڑھنے سے افضل ہے۔ کیا تم یہ نہیں چاہتے کہ اللہ تمہاری مغفرت کر کے تمہیں جنت میں داخل کر دے؟ اللہ کی راہ میں جہاد کرو۔ جو دو مرتبہ دودھ دوہنے کے درمیان کے وقفہ کے برابر (لحظہ بھر) بھی اللہ کی راہ میں جہاد کرے اس کے لئے جنت واجب ہو گئی۔

تشریح

نبی ﷺکے صحابہ میں سے ایک صحابی کا پہاڑ میں واقع ایک گھاٹی پر سے گزر ہوا۔ اس گھاٹی میں میٹھے پانی کا ایک چشمہ تھا۔ انہیں یہ چشمہ بہت پسند آیا اور انہوں نے چاہا کہ لوگوں سے الگ تھلک ہو کر وہ اس جگہ پر بسیرا کر لے ، اللہ کی عبادت میں مصروف رہے اور اس چشمے کا پانی پیتا رہے ۔ تاہم انہوں نے کہا کہ میں تب تک ایسا نہیں کروں گا جب تک کہ رسول اللہ ﷺ سے اجازت نہ لے لوں۔ چنانچہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے جب اپنے اس ارادے کا تذکرہ کیاتو آپ ﷺ نے فرمایا: "ایسا نہ کرو"۔ نبی ﷺ نے انہیں ایسا کرنے سے منع فرما دیا کیونکہ ان پر جہاد کرنا واجب ہو چکا تھا اور نفلی عبادت کے لئے ان کا گوشہ نشین ہو جانا ترک واجب کو لازم آتا تھا۔ پھر آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تم میں سے کسی شخص کا اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے کھڑا ہونا اس کا اپنے گھر میں ستر سال تک نماز پڑھنے سے افضل ہے“۔ یعنی اللہ کی راہ میں جہاد کرنا الگ تھلگ ہو کر ستر سال تک نماز پڑھتے رہنے سے بہتر ہے۔ کیونکہ جہاد کا نفع متعدی ہے بخلاف نماز کے کہ اس کا نفع صرف عبادت کرنے والے کو ہوتا ہے۔ ”کیا تم یہ نہیں چاہتے کہ اللہ تمہاری مغفرت کر کے تمہیں جنت میں داخل کر دے؟“ یعنی اگر تم یہ چاہتے ہو کہ اللہ تمہارے گناہوں کو بخش کر تمہیں جنت میں داخل کر دے تو اللہ کی راہ میں جہاد میں لگ جاو اور اس سلسلے میں صبر کا دامن تھامے رکھو اور اس سے اجر کی امید رکھو۔ پھر آپ ﷺ نے یہ فرماتے ہوئے اس کی فضیلت بیان کی کہ ”جس نے ایک لمحہ بھی اللہ کی راہ میں جہاد کیا اس کے لئے جنت واجب ہو گئی“ یعنی جس نے اللہ کی راہ میں اس کے دین کی سر بلندی کے لئے قتال کیا اس کے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے اگرچہ اس کی جہاد میں یہ شرکت بہت تھوڑی مدت کے لئے ہی کیوں نہ ہو۔

تشریح: العربية

أن رجلاً من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم مرَّ بشعب في جَبل، وفي الشِّعْب عَيْنٌ فيها ماء عَذْبٌ، فأعجبته تلك العين وأحب أن يعتزل الناس ويقيم في ذلك المكان يَتَعَبد الله ويشرب من تلك العين، إلا أنه رضي الله عنه قال لنْ أفعل حتى أستأذن رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: "لا تفعل" نهاه النبي صلى الله عليه وسلم عن ذلك؛ لأن الغزو قد وجَبَ عليه، فكان اعتزاله للتطوع معصية لاستلزامه ترك الواجب. ثم قال له: "فإن مُقام أحدِكم في سَبِيل الله أفضل من صلاته في بيته سَبْعِين عاماً" والمعنى: أن الجهاد في سبيل الله أفضل من التفرغ للصلاة سبعين عاماً؛ وذلك لأن الجهاد نفعه متعدٍ بخلاف الصلاة، فنفعها قاصر على صاحب العبادة. "ألا تُحِبُّونَ أن يَغْفِر الله لكم، ويدخلكم الجنة؟!" أي: إذا كنتم تحبون أن يَغْفِر الله لكم ذنوبكم ويدخلكم الجنة، فعليكم بالغزو في سبيل الله تعالى ، صابرين محتسبين. ثم بين فضله، بقوله: "من قَاتل في سبيل الله فُوَاقَ نَاقَةٍ وجَبَت له الجنة" أي: من قاتل في سبيل الله تعالى لإعلاء كلمته وجبت له الجنة ولو كانت مشاركته في القتال مدة يسيرة.

  • ما كان عليه الصحابة من الأدب مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فإن أحدهم كان لا يَبِتُّ في أمْر، حتى يَعرضه على النبي -صلى الله عليه وسلم-.
  • زيادة الترغيب في الجهاد في سبيل الله -تعالى-.
  • العلم قبل العمل؛ ولذلك سأل الصحابي رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عن مسألته قبل عملها.
  • المؤمن هواه تبعٌ للشرع.
  • ضَمِنَ الله -تعالى- الجنَّة لمن قُتل في سبيله، لا يريد إلا وجهه، ولا يقاتل إلا لتكون كلمة الله هي العليا.
  • دل الحديث بمفهومه أن من قاتل لعصبية أو حمية، لم تَجب له الجنة.
  • حرص رسول الله -صلى الله عليه وسلم- على أن تحوز أمته الخير، وتنال الدرجات العليا في الجنة.
  • حرص الشيطان على إغواء بني آدم؛ فإنه أراد أن يثني هذا الصحابي عما هو أعظم له في الأجر والثواب.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید