حدیث

کہاں ہے اس بات پر اللہ کی قسم کھانے والا کہ وہ بھلائی نہیں کرے گا؟

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عائشة رضي الله عنها قالت: سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم صوت خُصُومٍ بالباب عاليةً أصواتُهما، وإذا أَحدُهما يَسْتَوْضِعُ الآخر وَيَسْتَرْفِقُهُ في شيء، وهو يقول: والله لا أفعل، فخرج عليهما رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: «أين المُتَأَلِّي على الله لا يفعل المعروف؟»، فقال: أنا يا رسول الله، فله أي ذلك أحب.

ترجمہ

عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دروازے پر لڑنے والے دو اشخاص کی بلند آوازیں سنی جن میں سے ایک شخص دوسرے سے کہہ رہا تھا کہ وہ یا تو اسے (قرض میں سے کچھ) معاف کردے یا اس کے ساتھ کچھ نرمی کرے۔ جب کہ دوسرا شخص کہہ رہا تھا کہ اللہ کی قسم میں ایسا نہیں کروں گا۔ پس رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لاۓ اور فرمایا: کہاں ہے اس بات پر اللہ کی قسم کھانے والا کہ وہ بھلائی نہیں کرے گا؟ تو اس نے کہا: میں ہوں اے اللہ کے رسول۔ اور (کہا کہ) اِس کے لیے وہی ہے جو یہ پسند کرے۔

تشریح

حدیث کا معنی یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دروازے پر لڑنے والے دو اشخاص کی آوازیں سنی جو کسی مالی تنازعے پر الجھ رہے تھے۔ ان کی آوازیں اتنی بلند ہوئیں کہ ان کی آوازیں نبی ﷺ کے کانوں میں پڑیں جب کہ آپ ﷺ اپنے گھر میں تشریف فرما تھے۔ نبی ﷺ ان کی آوازوں پر متوجہ ہوئے تو ان میں سے ایک شخص کو سنا کہ وہ دوسرے سے مطالبہ کر رہا تھا کہ وہ یا تو اسے (قرض میں سے کچھ) معاف کردے یا اس کے ساتھ کچھ نرمی کرے۔ یعنی وہ کچھ قرض کم کرنے اور اس پر آسانی کرنےکا مطالبہ کر رہا تھا، جب کہ دوسرا شخص کہہ رہا تھا کہ اللہ کی قسم میں ایسا نہیں کروں گا۔ پس رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لاۓ اور فرمایا: ”کہاں ہےاس بات پر اللہ کی قسم کھانے والا کہ وہ بھلائی نہیں کرےگا؟“ یعنی كہاں ہے وہ جو اللہ کا قسم کھا رہا ہے کہ نیکی نہیں کروں گا؟ تو اس نے کہا: میں ہوں اے اللہ کے رسول۔ اور اِس کے لیے وہی ہے جو یہ پسند کرے۔ یعنی میں ہی ہوں جس نے اللہ کی قسم اٹھائی (لیکن اب میں) اپنے لڑنے والے کو قرض میں سے کچھ معاف کرنے یا اس میں نرمی کرنے میں سے کسی ایک چیز کا اختیار دیتا ہوں جو اسے پسند ہو۔ مسند احمد (24405) اور صحیح ابن حبان (5032) میں الفاظ کچھ یوں ہیں: ”اگر تم چاہو تو جتنی رقم کم ہے وہ معاف کردیتا ہوں یا اصل رقم میں سے کچھ کم کردیتا ہوں۔ تو اس نے جو رقم کم تھی وہ معاف کردی“۔ نبی ﷺ نے دو لڑنے والوں میں صلح کی سعی فرمائی، چاہے وہ (قرض کی کچھ رقم) معاف کردینے سے ہو یا (اس میں) نرمی کے ذریعے۔ اور ایک اور حدیث میں اسی طرح کا ایک اور قصہ بھی ہے جس کو امام بخاری (2424) اور امام مسلم (1558) نے بیان کیا ہے۔ کعب بن مالک سے روایت ہے کہ ان کا عبد اللہ بن أبي حدرد الأسلمي پر کچھ قرض تھا۔ جب دونوں کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے قرض کا مطالبہ کیا جو بحث کی صورت اختیار کرگیا اور ان دونوں کی آوازیں بلند ہو گئیں۔ نبی ﷺ ان دونوں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”اے کعب! اور اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا- گويا وہ کہہ رہے ہوں آدھا“۔ تو انہوں نے (قرض) کا آدھا حصہ لے لیا اور آدھا چھوڑ دیا۔ پس مسلمان کو چاہیے کہ نیکی کرنے پر حریص ہو اور ایک نیکی یہ بھی ہے کہ لوگوں کے ما بین صلح کرا دی جاۓ۔ پس اگر دو لوگوں، گروہوں یا قبیلوں کے مابین لڑائی جھگڑا اور نفرت دیکھو تو ان کے درمیان صلح کی کوشش کرو تاکہ ہر اس چیز کا خاتمہ ہو سکے جو دوری اور بغض کا باعث ہے۔ اور اس کی جگہ بھائی چارے اور محبت کا راج ہو۔ بے شک اس میں بہت خیر اور خوب ثواب ہے۔ بلکہ یہ عمل دن کو روزہ، رات کو قیام اور صدقہ کرنے سے بھی زیادہ فضیلت کا حامل ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں روزہ، نماز اور صدقہ و خیرات سے بھی افضل عمل نہ بتاؤں؟ (صحابہ نے عرض کیا) کیوں نہیں اے اللہ کے رسول (ضرور بتائیں)!، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”آپس میں صلح کرانا“۔ (ابو داود: 4919، شیخ البانی نے صحیح ابو داود میں اس کو صحیح کہا ہے)

تشریح: العربية

معنى الحديث: أن النبي صلى الله عليه وسلم سمع صوت خصمين يتنازعان في أمور مالية، وقد ارتفعت أصواتهما حتى وصلت إلى مسامع النبي صلى الله عليه وسلم في بيته، فأصغى النبي صلى الله عليه وسلم إلى هذه الأصوات، وإذا به يسمع أحد الرجلين "يستوضع الآخر ويسترفقه في شيء" أي يطلب منه أن يضع عنه شيئًا أو أن يرفق به "وهو يقول: والله لا أفعل، فخرج عليهما رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال أين المُتألي على الله أن لا يفعل المعروف؟" أي: أين الحالف بالله على عدم فعل المعروف فقال: أنا يا رسول الله، فله أي ذلك أحب" أي أنا الذي حلفت، ولخصمي ما أحَبَّ من الوَضْع من الدَّيْن أو الرفق به، وفي رواية لأحمد (24405) وابن حبان (5032): "إن شئتَ وضعتُ ما نقصوا، وإن شئت من رأس المال، فوضعَ ما نقصوا"، سعى النبي صلى الله عليه وسلم في الصلح بين المتخاصمين، إما بالوضع أو الرفق، وفي الباب قصة مشابهة لهذا الحديث رواها البخاري (2424) ومسلم (1558)، عن كعب بن مالك رضي الله عنه، أنه كان له على عبد الله بن أبي حَدْرَد الأسلمي دين، فلقيه، فلزمه فتكلما حتى ارتفعت أصواتهما، فمر بهما النبي صلى الله عليه وسلم فقال: "يا كعب" وأشار بيده، كأنه يقول: النصف، فأخذ نصف ما عليه وترك نصفا". فينبغي للمسلم أن يحرص على فعل الخير ومن ذلك الإصلاح بين الناس، فإذا رأى شخصين أو جماعتين أو قبيلتين بينهما نزاع وشقاق وتباغض واقتتال سعى للإصلاح بينهم لإزالة كل ما يؤدي إلى الفرقة والتباغض، ويحل محله الإخاء وتسود المحبة، فإن في ذلك الخير الكثير والثواب الجزيل، بل ذلك أفضل من درجة الصائم القائم المتصدق، قال -عليه الصلاة والسلام-: "ألا أخبركم بأفضل من درجة الصيام والصلاة والصدقة؟ قالوا: بلى، يا رسول الله قال: إصلاح ذات البين.." رواه أبو داود برقم (4919) وصححه الألباني في صحيح أبي داود، برقم (4919).

  • الحض على الرفق بالغريم والإحسان إليه بالوضع عنه.
  • الزجر على الحلف على ترك الخير، والسعي للإصلاح بين المتخاصمين.
  • لا يجوز الحلف على ترك فعل الخير.
  • السعي للإصلاح بين الخُصوم: قربة إلى الله -تعالى-.
  • استحباب الصفح عما يجري بين المتخاصمين من اللغط ورفع الصوت عند القاضي.
  • جواز طلب المدين من الدائن الإنظار أو الوضع ، لكن بشرط أن لا ينتهي إلى الإلحاح وإهانة النفس أو الإيذاء ونحو ذلك إلا من ضرورة.
  • وجوب إنظار المعسر والرفق به، قال -تعالى-: (وإن كان ذو عسرة فنظرة إلى ميسرة).
  • استحباب تدخل الإمام للإصلاح بين الخصمين.
  • الإنكار على من حلف لا يفعل خيرًا.
  • فيه الشفاعة إلى أصحاب الحقوق وقبول الشفاعة في الخير.
  • حرص النبي -صلى الله عليه وسلم- على الإصلاح بين ذات البين.
  • جواز المطالبة بالدين في المسجد.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید