حدیث

رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری دس دنوں میں عبادت میں جنتی محنت کرتے تھے، اتنی دوسرے دنوں میں نہيں کرتے تھے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه مسلم

عربی متن

عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المؤْمِنينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْتَهِدُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مَا لَا يَجْتَهِدُ فِي غَيْرِهِ.

ترجمہ

امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری دس دنوں میں عبادت میں جنتی محنت کرتے تھے، اتنی دوسرے دنوں میں نہيں کرتے تھے۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول یہ تھا کہ جب رمضان کا آخری عشرہ داخل ہوتا تو اس میں دوسرے دنوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ عبادت اور طرح طرح کے نیکی کے کاموں میں مشغول ہو جایا کرتے تھے۔ آپ ایسا ان راتوں کی عظمت وفضیلت کو ملحوظ رکھتے ہوئے اور لیلۃ القدر کی طلب میں کیا کرتے تھے۔

فوائد

  • ماہ رمضان میں بالعموم اوراس کے آخری عشرہ میں خاص طور سے کثرت سے نیکی اور طرح طرح کے اچھے کام کرنے کی ترغیب۔
  • رمضان کا آخری عشرہ اکیسویں رات سے شروع ہوکر مہینے کے آخر تک رہتا ہے۔
  • فضیلت والے اوقات کو نیکی کے کاموں میں لگانا مستحب ہے۔
تشریح: العربية

كَانَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم إذا جاء العَشر الأواخر من رمضان يَجتهد فيها بالعبادة والطاعة، ويُبالِغ في أنواع الخيرات وأصناف المَبَرَّات والعبادات أكثر مما يجتهد في غيره؛ وذلك لِعِظَم وفضل تلك الليالي، وطلبًا لليلة القدر.

  • الحث على الإكثار مِن البِرِّ ووجوه الطاعات في شهر رمضان عامة والعشر الأخيرة منه خاصة.
  • العشر الأواخر من رمضان تبدأ من الليلة الحادية والعشرين إلى نهاية الشهر.
  • استحباب اغْتِنَام الأوقات الفاضلة بالطاعات.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید