ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن سعد بن أبي وقَّاص رضي الله عنه قال: كنا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: «أَيَعْجِزُ أحَدُكم أن يَكْسِبَ في كل يوم ألف حسنة؟!» فسأله سائل من جُلَسَائِه: كيف يَكْسِبُ ألف حَسَنَة؟ قال: «يُسبح مائة تسبيحة؛ فيُكْتَبُ له ألفُ حسنة، أو يُحَطُّ عنه ألف خَطِيئة».
ترجمہ
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے حضور بیٹھے تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات سے عاجز ہے کہ ہر دن ایک ہزار نیکیاں کما لے؟۔ آپ ﷺ کے ساتھ بیٹھے لوگوں میں سے ایک شخص نے پوچھا: آدمی ہزار نیکیاں کیسے کما سکتا ہے؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ سو دفعہ سبحان اللہ کہے، اس کے لیے ایک ہزار نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں یا اس کے ایک ہزار گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔
تشریح
نبی ﷺ اپنے صحابہ سے پوچھ رہے ہیں کہ کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات کی استطاعت نہیں رکھتا کہ وہ ہر دن ایک ہزار نیکیاں حاصل کر لے؟۔ آپ ﷺ کے ساتھ بیٹھے لوگوں میں سے کسی نے پوچھا کہ آدمی آسانی کے ساتھ ایک ہزار نیکیاں کیسے حاصل کر سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ ایک سو دفعہ سبحان اللہ پڑھ لے، اس کے لیے ایک ہزار نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں؛ کیوںکہ ایک نیکی پر اس طرح کی دس نیکیوں کا ثواب ملتا ہے اور اس کے بدلے میں اس کے گناہوں میں سے ایک ہزار گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔
تشریح: العربية
يسأل النبي صلى الله عليه وسلم أصحابه: ألا يستطيع أحدكم أن يحصل في كل يوم على ألف حسنة؟! فسأله سائل من جُلَسَائِه: كيف يتحصل المرء على ألف حسنة بسهولة؟. قال: يقول سبحان الله مائة مرة؛ فيُكتب له ألف حسنة؛ لأن الحسنة الواحدة بعشر أمثالها، وتُمْحَى عنه ألف سيئة من سيئاته.
- يستحب للعالم الرباني أن يَحُضَّ تلاميذه وأصحابه على الفضائل؛ لأنها سُلَّم الطاعات.
- مبادرة الصحابة إلى فعل الخيرات دون تأخير.
- مضاعفة الحسنات إلى عشر أمثالها، وذلك مثل قوله -تعالى-: (من جاء بالحسنة فله عشر أمثالها)، وهذا أقل درجات التضعيف، وإلا فقد ورد إلى سبعمائة ضعف.