ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أبي هريرة ـ رضي الله عنه ـ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لا يَلِجُ النارَ رجُل بَكى من خشية الله حتى يَعود اللَّبنُ في الضَّرْع، ولا يَجتمع غُبَارٌ في سبيل الله وَدُخَانُ جهنم».
ترجمہ
ابو ھریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ الله کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کے خوف سے رویا ہو وہ جہنم میں داخل نہ ہوگا یہاں تک کہ دودھ تھنوں میں واپس چلا جائے۔ اور (کسی آدمی پر) اللہ کی راہ کا گرد و غبار اور جھنم کا دھواں اکٹھا نہیں ہو سکتے“۔
تشریح
رسول اللہ ﷺ نے اس بات کی خبر دی ہے کہ اللہ کے ڈرسے رونے والا شخص جھنم کی آگ میں داخل نہيں ہوگا۔ كیونکہ عام طور پر خوف وڈر کی وجہ سے آدمی اطاعت وفرماں برداری کرتا ہے اور گناہوں سے اجتناب کرتا ہے۔ ”یہاں تک کہ دودھ تھنوں ميں واپس چلا جائے“ یہ تعلیق بالمحال کے طور پر ہے (یعنی جس طرح دوہے ہوئے دودھ کا تھنوں میں واپس جانا محال ہے، اسی طرح اس شخص کا دوزخ میں جانا محال ہے)۔ نیز کسی آدمی پر اللہ کی راہ کا گرد و غبار اور جھنم کا دھواں اکٹھا نہیں ہو سکتے۔ گویا کہ يہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں جو یکجا نہیں ہو سکتے، جس طرح کہ دنیا اور آخرت ایک دوسرے کی ضد ہیں۔
تشریح: العربية
أخبر رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه لا يدخل النار من بكى من خشية الله؛ لأن الغالب من الخشية امتثال الطاعة واجتناب المعصية؛ حتى يعود اللبن في الضرع، وهذا من باب التعليق بالمحال. ولا يجتمع على عبد غبار في سبيل الله ودخان جهنم، فكأنهما ضدان لا يجتمعان كما أن الدنيا والآخرة نقيضان.
- أن البكاء خشية من الله تعالى يبعث على الاستقامة، فيكون وقاية من عذاب النار.
- فضل الجهاد في سبيل الله.
- الخوف من الله من أسباب النجاة من النار.