ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِ، وَلَكِنِ الْوَاصِلُ الَّذِي إِذَا قُطِعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا».
ترجمہ
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے : ”رشتہ جوڑنے والا وہ نہیں جو بدلے میں رشتہ جوڑے، بلکہ رشتہ جوڑنے والا وہ ہے کہ جب اس سے ناتا توڑا جائے تو وہ اسے جوڑے“۔
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ: اصلا رشتہ جوڑنے اور رشتے داروں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے والا وہ نہيں ہے، جو بھلائی کے بدلے میں بھلائی کرے۔ بلکہ اصل رشتہ جوڑنے والا وہ ہے کہ جب اس سے رشتہ توڑا جائے تو وہ اسے جوڑنے کا کام کرے۔ اس کے رشتے دار اس کے ساتھ برا کریں، تب بھی وہ ان کے ساتھ اچھا کرے۔
فوائد
- شریعت کی نظر میں معتبر صلہ رحمی یہ ہے کہ قطع رحمی کرنے والے کے ساتھ صلہ رحمی کی جائے، ظلم کرنے والے کو معاف کیا جائے اور نہ دینے والے کو دیا جائے۔ بھلائی کے بدلے میں بھلائی کرنا اصل صلہ رحمی نہیں ہے۔
- صلہ رحمی کا مطلب ہے جہاں تک ہو سکے، رشتے داروں کو خیر پہنچانا۔ مثلا مالی مدد کرنا، ان کے حق میں دعا کرنا، ان کو بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا وغیرہ۔ اسی طرح جہاں تک ہو سکے ان کو شر سے بچانا۔
تشریح: العربية
يُخبِرُ النبيُّ صلى الله عليه وسلم بأنَّ الإنسانَ الكامِلَ في صِلَةِ الرَّحِم والإحسانِ إلى الأقاربِ ليس هو الشخصُ الذي يُقابِلُ الإحسانَ بالإحسان، بل الواصِلُ حقيقةً الكامِلُ في صلة الرحم هو الذي إذا قُطِعَتْ رَحِمُه وَصَلَها، وإن أساؤوا إليه فإنه يُقابِلُهم بالإحسان إليهم.
- صِلَةُ الرَّحِم الكاملة شَرْعًا أنْ تَصِلَ مَن قَطَعَك منهم، وتَعفوَ عمَّن ظَلمك، وتعطي من حرمك، وليست صِلَة المقابلة والمجازاة.
- صلة الرَّحم تكون بالزيارة واللقاء والتواصل، وإيصال ما أمكن من الخير من المال والدعاء والأمر بالعروف والنهي عن المنكر ونحوِها، ودفع ما أمكن من الشر عنهم.