حدیث

کوئی شخص بھی ایسا نہ ہو گا جو جنت میں داخل ہونے کے بعد دنیا میں دوبارہ آنا پسند کرے، خواہ اسے دنیا میں موجود ہر شے مل جائے، سوائے شہید کے۔ اس کی یہ تمنا ہو گی کہ دنیا میں دوبارہ واپس جا کر دس مرتبہ اور قتل ہو کیونکہ وہ شہادت پر ملنے والی عزت کو دیکھ رہا ہوگا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أنس رضي الله عنه : أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «مَا أحَدٌ يَدْخُل الجنَّة يُحِبُّ أن يَرجع إلى الدنيا وله ما على الأرض من شيء إلا الشَّهيد، يَتَمَنَّى أن يَرجع إلى الدنيا، فيُقْتَل عَشْر مَرَّاتٍ؛ لما يَرَى من الكَرَامة». وفي رواية: «لما يَرى من فَضْل الشَّهادة».

ترجمہ

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”کوئی شخص بھی ایسا نہ ہو گا جو جنت میں داخل ہونے کے بعد دنیا میں دوبارہ آنا پسند کرے، خواہ اسے دنیا میں موجود ہر شے مل جائے، سوائے شہید کے، اس کی یہ تمنا ہو گی کہ دنیا میں دوبارہ واپس جا کر دس مرتبہ اور قتل ہو کیونکہ وہ شہادت پر ملنے والی عزت کو دیکھ رہا ہوگا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ کیونکہ وہ شہادت کی فضیلت کو دیکھ رہا ہو گا“۔

تشریح

کوئی بھی شخص جنت میں داخل ہونے کے بعد یہ خواہش نہیں رکھے گا کہ وہ اس سے علیحدہ ہو اور دوبارہ دنیا میں لوٹ جائے اگرچہ اسے دنیا کے تمام خزانے اور قیمتی اشیاء بھی دے دی جائیں اور اس کے ساتھ ساتھ اسے اس میں موجود عالی شان محلات اور گھنے سرسبز باغات بھی دے دیے جائیں۔ پھر اللہ کے نبی ﷺ نے اس سے شہید کو مستثنی کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ دنیا میں دس بار واپس آنے کو پسند کرے گا تاکہ وہ ہر دفعہ اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے شہید ہو جائے اور اسے ایک دفعہ کے بجائے دس دفعہ شہادت ملے کیونکہ اس نے شہدا کو ملنے والی عزت ومقام کو دیکھ لیا ہو گا۔

تشریح: العربية

ليس هناك أحد يتمنى ويرغب أن يفارق الجنة بعد دخولها، ويعود إلى الدنيا مرة أخرى، ولو أعطي الأرض كلها بما فيها من كنوز ونفائس، وما عليها من قصور عالية وحدائق غناء، ثم استثنى من ذلك الشهيد، فإنه يحب العودة إلى الدنيا عشر مرات لكي يجاهد كل مرة في سبيل الله ويستشهد فيفوز بالشهادة عشر مرات بدل مرة واحدة، وذلك لما يرى من الكرامة التي يلاقيها الشهداء.

  • فضل الشهادة والترغيب في الجهاد.
  • فيه حقارة الدنيا.
  • ولازم الحديث أن الجنة موجودة الآن.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید