حدیث

یہ (فقیر) شخص اس (پہلے) شخص جیسے دنیا بھر کے لوگوں سے بہتر ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن سهل بن سعد الساعدي رضي الله عنه قال: مَرَّ رجلٌ على النبي صلى الله عليه وسلم فقال لرجل عنده جالسٌ: «ما رأيُك في هَذا؟»، فقال: رجل من أَشراف الناس، هذا والله حَرِيٌّ إن خَطب أن يُنْكَحَ، وإن شَفع أن يُشَفَّعَ، فَسكت رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم مرَّ رجلٌ آخر، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم : «ما رأيُك في هذا؟» فقال: يا رسول الله، هذا رجلٌ من فقراء المسلمين، هذا حَرِيٌّ إن خَطب أن لا يُنْكَحَ، وإن شَفَعَ أن لا يُشَفَّعَ، وإن قال أن لا يُسمع لقوله، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «هذا خَيرٌ من مِلءِ الأرض مثل هذا».

ترجمہ

سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبیﷺ کے پاس سے گزرا تو آپ ﷺ نے اپنے پاس بیٹھے ہوئے ایک شخص سے پوچھا: اس کے بارے تمہاری کیا رائے ہے؟ اس شخص نے جواب دیا: یہ (آدمی) معزز لوگوں میں سے ہے۔ اللہ کی قسم! یہ اس قابل ہے کہ اگر کہیں پيغامِ نكاح بھیجے تو اس کا نکاح کر دیا جائے اور اگر كسی کی سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول کی جائے۔ رسول اللہ ﷺ (یہ جواب سن کر) خاموش ہوگئے۔ پھر ایک اور آدمی (وہاں سے) گزرا تو آپ ﷺ نے پھر اسی شخص سے پوچھا: اس کے بارے تمہاری کیا رائے ہے؟ اس نے جواب دیا: اے اللہ کے رسول! یہ شخص غریب مسلمانوں میں سے ہے۔ یہ اس لائق ہے کہ اگر نکاح کا پیغام دے تو اس سے کوئی نکاح نہ کرے، اگر کسی کی سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول نہ کی جائے، اور اگر کوئی بات کہے تو اس کی بات سنی نہ جائے۔ رسول کریم ﷺ نے یہ سنا تو فرمایا۔ ”یہ (فقیر) شخص اس (پہلے) شخص جیسے دنیا بھر کے لوگوں سے بہتر ہے“۔

تشریح

مفہوم حدیث: نبی ﷺ کے پاس سے دو آدمیوں کا گزر ہوا۔ ان میں سے ایک کا تعلق معزز لوگوں سے تھا جس کا ان میں اثرورسوخ تھا۔ یہ ایسا شخص تھا کہ اگر کہیں پیغام نکاح بھیجتا تو اس کا پیغام قبول کیا جاتا اور اگر کوئی بات کہتا تو اس کی بات سنی جاتی۔ جب کہ دوسرا شخص اس کے بالکل برعکس تھا۔ اس کا تعلق کمزور مسلمانوں میں سے تھا جس کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔ اگر وہ کہیں پیغام نکاح بھیجتا تو اسے قبول نہ کیا جاتا، اگر کوئی سفارش کرتا تو اس کی سفارش قبول نہ کی جاتی اور اگر کوئی بات کہتا تو اس کی بات سنی نہ جاتی۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”یہ (غریب) شخص اس (پہلے) شخص جیسے زمین بھر کے لوگوں سے بہتر ہے“ یعنی یہ شخص اللہ کے نزدیک اس شخص جیسے دنیا بھر کے لوگوں سے بہتر ہے جو اپنی قوم میں جاہ و منزلت رکھتا ہے کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالی عزت و جاہ، حسب و نسب، مال و دولت، شکل و صورت، لباس، سواری اور گھر بار کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ دل اور عمل کو دیکھتا ہے۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے: ”اللہ تعالیٰ تمہاری شکلوں اور تمہارے مال و دولت کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے“۔ (صحیح مسلم) جب بندے اور اللہ کے مابین دل کی اصلاح ہوجاتی ہے، وہ اللہ کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے، اور وہ اللہ کا ذکر کرنے والا اور اس سے خوف کھانے والا ہو جاتا ہے، اور وہ اللہ عز وجل کو راضی کرنے والے اعمال کرتا ہے تو ایسا شخص ہی اللہ کے ہاں معزز اور صاحب منزلت ہے۔ اور یہی وہ شخص ہے جو اگر اللہ پر قسم کھا لے تو اللہ تعالی اس کی قسم کو پوری کردیتا ہے.

تشریح: العربية

معنى الحديث : مرَّ بالنبي صلى الله عليه وسلم رجلان، أحدهما: من أشراف القوم، وممن له كلمة فيهم، وممن يجاب إذا خطب، ويسمع إذا قال، والثاني بالعكس، رجل من ضعفاء المسلمين ليس له قيمة، إن خطب فلا يجاب، وإن شفع فلا يشفع، وإن قال فلا يسمع. فقال النبي صلى الله عليه وسلم : (هذا خير من مِلء الأرض مثل هذا) أي: خير عند الله عز وجل من مِلء الأرض من مثل هذا الرجل الذي له شرف وجاه في قومه؛ لأن الله سبحانه وتعالى لا ينظر إلى الشرف، والجاه، والنسب، والمال، والصورة، واللباس، والمركوب، والمسكون، وإنما ينظر إلى القلب والعمل، وفي الحديث: (إن الله لا ينظر إلى صوركم، ولا إلى أموالكم، ولكن إنما ينظر إلى قلوبكم وإلى أعمالكم)، رواه مسلم. فإذا صلح القلب فيما بينه وبين الله عز وجل ، وأناب إلى الله، وصار ذاكراً لله تعالى خائفاً منه، مخبتاً إليه، عاملاً بما يرضي الله عز وجل ، فهذا هو الكريم عند الله، وهذا هو الوجيه عنده، وهذا هو الذي لو أقسم على الله لأبره.

  • الحث على عدم الاستهانة بالفقراء والمستورين، فرب أشعث أغبر خير من مِلء الأرض من الأثرياء وأصحاب المظاهر.
  • التفاضل بين الناس بالتقوى، قال -تعالى-: (إن أكرمكم عند الله أتقاكم).
  • الترغيب في إنكاح الصالحين والصالحات، ولو كانوا فقراء؛ لأنهم الأكفاء في الدين.
  • إن السيادة لمجرد حيازة الدنيا لا أثر له في المجتمع الإسلامي، ومن فاته حظه من الدنيا أمكنه الاستعاضة عنه بالأعمال الصالحة والتقوى.
  • جواز استفتاح العالم جلسته بسؤال تلاميذه.
  • الله لا ينظر إلى صور الناس وأموالهم وأحسابهم وأنسابهم.
  • الترغيب في إنكاح الصالحين والصالحات؛ لأنهم أكفاء في الدين والخلق.
  • لا قيمة للعرف السائد الذي يخالف الشرع.
  • التكلم على من لم يكن حاضراً ليعلم الناس أمره، أو ليحذروا شره، لا يعد من الغيبة المحرمة.
  • فيه أن الرجل قد يكون ذا منزلة عالية في الدنيا، ولكنه ليس له قدر عند الله، وقد يكون في الدنيا ذا مرتبة منحطة وليس له قيمة عند الناس وهو عند الله خير من كثير ممن سواه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید