حدیث

جو مسلمان کوئی پودا لگاتا ہے، تو اس میں سے جو کچھ کھایا جاتا ہے، وہ اس کے لیے صدقہ ہو گا، جو اس میں سے چوری ہو جاتا ہے، وہ اس کے لیے صدقہ ہوگا اور اس میں جو شخص بھی کچھ کمی کرتا ہے، وہ بھی اس کے لیے صدقہ ہو گا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ

عربی متن

عن جابر رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «ما من مسلم يَغرس غَرسا إلا كان ما أُكل منه له صدقة، وما سُرق منه له صدقة، ولا يَرْزَؤُهُ أحد إلا كان له صدقة». وفي رواية: «فلا يَغرس المسلم غَرسا فيأكلَ منه إنسان ولا دَابَة ولا طير إلا كان له صدقة إلى يوم القيامة»، وفي رواية: «لا يَغرس مسلم غرسا، ولا يزرع زرعًا، فيأكل منه إنسان ولا دَابَة ولا شيء، إلا كانت له صدقة».

ترجمہ

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”جو مسلمان کوئی پودا لگاتا ہے تو اس میں سے جو کچھ کھایا جاتا ہے، وہ اس کے لیے صدقہ ہو گا، جو اس میں سے چوری ہو جاتا ہے، وہ اس کے لیے صدقہ ہوگا اور اس میں گر کوئی شخص کچھ کمی کرتا ہے، تو وہ بھی اس کے لیے صدقہ ہو گا“۔ دوسری روایت میں ہے: ”مسلمان کوئی پودا لگائے اور اس میں سے کوئی انسان، چوپایہ اور پرندہ کھا لے، تو وہ قیامت کے دن اس کے لیے صدقہ ہوگا“۔ ایک اور روایت میں ہے: ”جو مسلمان کوئی پودا لگائے یا فصل بوئے، تو اس میں سے جو بھی انسان یا چوپایہ یا کوئی اور شے کھائے، وہ اس کے لیے صدقہ ہے“۔

تشریح

اس حدیث کا مفہوم یہ ہےکہ جو بھی مسلمان کوئی پودا لگائے یا فصل بوئے اور اس میں سے کوئی جان دار مخلوق کھا لے، تو اسے اس پر ثواب ملتا ہے، یہاں تک کہ اس کی وفات کے بعد بھی اس کے اس عمل کا ثواب اس وقت تک جاری رہتا ہے، جب تک اس کی یہ کھیتی اور لگایا ہوا درخت باقی رہتا ہے۔ اس حدیث میں کھیتی کرنے اور پودے لگانے کی ترغیب دی گئی ہے۔ کیوں کہ کھیتی کرنے اور پودے لگانے میں بہت سی خیر مضمر ہے۔ اس میں دینی فائدہ بھی ہے اور دنیاوی بھی۔ اگر اس میں سے کوئی کھا لے، تو وہ اس کے لیے صدقہ ہو گا۔ اس سے عجیب تر یہ کہ اگر اس میں سے کسی چور نے کچھ چرا لیا، مثلا کوئی شخص کھجور کے پودے پاس آ کر اس میں سے کھجوریں چرا لے، تو اس کھجور کے مالک کو اس پر بھی اجر ملے گا، اگرچہ اسے اگر اس چور کا پتہ لگ جائے، تو وہ اس کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کر دے گا۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ اس چوری کے بدلے میں قیامت کے دن تک اس کے لیے صدقہ کا ثواب لکھ دیتا ہے۔ اسی طرح جب کھیتی کو جانور یا کیڑے مکوڑے کھا جائیں، تو یہ بھی صدقہ شمار ہوگا۔ حدیث بالخصوص مسلم کا ذکر اس لیے ہوا ہے کہ وہی در حقیقت دنیا و آخرت میں صدقہ کے ثواب سے فائدہ اٹھاتا ہے۔

تشریح: العربية

معنى هذا الحديث أنه ما من أحد من المسلمين يغرس غرسًا أو يزرع زرعًا، فيأكل منه حي من أحياء المخلوقات، إلا أثيب على ذلك، حتى بعد مماته فيجري له عمله ما بقي زرعه وغراسه. ففي حديث الباب الحث على الزرع، وعلى الغرس، وأن الزرع والغرس فيه الخير الكثير، فيه مصلحة في الدين، ومصلحة في الدنيا. وأنه إذا أكل منه صار له صدقة، وأعجب من ذلك لو سرق منه سارق، كما لو جاء شخص مثلًا إلى نخل وسرق منه تمرًا، فإن لصاحبه في ذلك أجرًا، مع أنه لو علم بهذا السارق لرفعه إلى المحكمة، ومع ذلك فإن الله تعالى يكتب له بهذه السرقة صدقة إلى يوم القيامة. كذلك أيضًا: إذا أكل من هذا الزرع دواب الأرض وهوامها كان لصاحبه صدقة. وخص الحديث بالمسلم؛ لأنه الذي ينتفع بثواب الصدقة في الدنيا والآخرة.

  • الحث على الغرس والزراعة.
  • فضل من يغرس غرسًا أو يزرع زرعًا.
  • أن هذه الأعمال من الصدقة الجارية.
  • سعة فضل الله تعالى وكرمه أن يثيب الإنسان على عمله بعد مماته.
  • السعي في تحصيل النفع لمخلوقات الله -تعالى-.
  • يثاب المسلم على ما سُرق من ماله، أو ما غصب منه، أو أتلف منه إذا صبر واحتسب عند الله تعالى، وكذلك إذا سرق منه ولم يعلم.
  • ظاهر الحديث: أنه متى حصل الأكل من الزرع أو السرقة، فله بذلك أجر ولو لم ينو ذلك.
  • فيه الرحمة بالحيوان.
  • شمل الحديث جميع الحيوانات،مأكولة اللحم وغير مأكولة اللحم؛ لقوله -صلى الله عليه وسلم-: (..وما أكل السبع فهو له صدقة).

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید