حدیث

مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میرے پاس اس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو، پھر مجھ پر تین دن گزر جائیں اور میرے پاس اس میں سے ایک دینار بھی موجود ہو، ماسوا اس شے کے جسے میں قرض کی ادائیگی کے لیے سنبھال کر رکھ لوں۔ اس کے سوا جتنا کچھ بھی ہو میں اسے اللہ کے بندوں میں اس طرح، اس طرح اور اس طرح تقسیم کردوں۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أبي ذر رضي الله عنه قال: كنت أمشي مع النبي صلى الله عليه وسلم في حَرَّةٍ بالمدينة، فاستقبلنا أُحُدٌ، فقال: «يا أبا ذر» قلت: لبيك يا رسول الله. فقال: «ما يَسُرُّنِي أن عندي مثل أُحُدٍ هذا ذهبًا تمضي علي ثلاثة أيام وعندي منه دينارٌ، إلا شيء أرصده لِدَيْنٍ، إلا أن أقولَ به في عباد الله هكذا وهكذا وهكذا» عن يمينه وعن شماله ومن خلفه، ثم سار، فقال: «إن الأكثرين هم الأَقَلُّونَ يوم القيامة إلا من قال بالمال هكذا وهكذا وهكذا» عن يمينه وعن شماله ومن خَلفه «وقليل ماهم». ثم قال لي: «مكانك لا تَبْرح حتى آتيك» ثم انطلق في سوادِ الليل حتى تَوارى، فسمعت صوتًا، قد ارتفع، فَتَخَوَّفْتُ أن يكون أحدٌ عَرض للنبي صلى الله عليه وسلم فأردت أن آتيه فذكرت قوله: «لا تَبْرَحْ حتى آتيك» فلم أبْرَحْ حتى أتاني، فقلت: لقد سمعت صوتًا تَخَوَّفْتُ منه، فذكرت له، فقال: «وهل سمعته؟» قلت: نعم، قال: «ذاك جبريل أتاني فقال: من مات من أُمتك لا يُشرك بالله شيئًا دخل الجنة»، قلت: وإن زنى وإن سرق؟ قال: «وإن زنى وإن سرق».

ترجمہ

ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے ساتھ مدینے کے ایک حرے (کالے پتھر والی زمین) پر چلا جا رہا تھا کہ ہمارے سامنے احد پہاڑ آگيا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے ابوذر! میں نے جواب دیا: میں حاضر ہوں اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میرے پاس اس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو، پھر مجھ پر تین دن گزر جائیں اور میرے پاس اس میں سے ایک دینار بھی موجود ہو، ماسوا اس شے کے جسے میں قرض کی ادائیگی کے لیے سنبھال کر رکھ لوں۔ اس کے سوا جتنا کچھ بھی ہو میں اسے اللہ کے بندوں میں اس طرح، اس طرح اور اس طرح تقسیم کردوں۔ اپنے دائیں، بائیں اور پیچھےکی طرف اشارہ کیا۔ پھر آپ ﷺ چل دیے اور فرمایا: زیادہ مال ودولت والے ہی روز قیامت (اجر وژواب میں) بہت کم ہوں گے، ماسوا اس شخص کے جس نے مال کو اس طرح، اس طرح اور اس طرح اپنے دائیں، بائیں اور پیچھے خرچ کیا ہوگا، ليکن ایسا کرنے والے کم ہی ہیں۔ پھر آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: اپنی اس جگہ سے تب تک نہ ہٹنا جب تک میں تمہارے پاس نہ آجاوں۔ پھر آپ ﷺ رات کے اندھیرے میں چل دیے يہاں تک کہ اوجھل ہو گئے۔ پھر میں نے ایک بلند آواز سنی۔ مجھے اندیشہ لاحق ہوا کہ کہیں کوئی شخص نبی ﷺ کو نقصان پہنچانے کے درپے تو نہیں ہو گیا۔ میں نے آپ ﷺ کے پاس جانے کا ارادہ کیا لیکن مجھے آپ ﷺ کا فرمان یاد آ گیا کہ میرے آنے تک اپنی جگہ سے نہ ہٹنا۔ چنانچہ میں وہاں سے نہ ہٹا یہاں تک کہ آپ ﷺ میرے پاس تشریف لے آئے۔ میں نے کہا: میں نے ایک آوا ز سنی تھی جس کی وجہ سے مجھے خوف لاحق ہو گیا تھا۔ میں نے ساری بات آپ ﷺ کو بتا دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم نے وہ آواز سنی تھی؟ میں نے جواب دیا:جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ جبریل علیہ السلام تھے جو میرے پاس آئے تھے اور انہوں نے کہا: آپ کی امت کا جو شخص اس حال میں مر جائے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں جائے گا۔ میں نے پوچھا: اگرچہ وہ زنا کرے اور چوری کرے؟ فرمايا: اگرچہ وہ زنا اور چوری کرے۔

تشریح

حدیث کا مفہوم: ابو ذر رضی اللہ عنہ بيان کر رہے ہيں کہ وہ نبی ﷺ کے ساتھ مدینہ میں کالے پتھروں والی زمین (حرہ) پر چلے جا رہے تھے کہ سامنے احد پہاڑ آ گیا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہوتا تو مجھے یہ بات بالکل پسند نہ ہوتی کہ مجھ پر تین دن گزر جائیں“۔ یعنی یہ بات مجھے خوش نہيں کرتی کہ تین دن گزر جائیں اور اس میں سے میرے پاس کچھ بچا رہے ایک دینار بھینہیں، ”ما سوا اس شے کے جسے میں قرض کی ادائیگی کے لیے سنبھال کر رکھ لوں“ یعنی اگر میرے پاس احد پہاڑ کے بقدر خالص سونا ہوتا تو میں وہ سارا کا سارا اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتا اور اس میں سے کچھ بھی باقی نہ چھوڑتا سوائے اس شے کے جس کی مجھے حقوق پورا کرنے اور قرضوں کی ادائیگی کے لئے ضرورت ہوتی۔ اور جو کچھ اس سے زائد ہوتا تو ميں اس بات کوبالکل پسند نہيں کرتا کہ تين دن گزر جائيں اور اس ميں سے کچھ بھی ميرے پاس باقی رہے۔ يہ اس بات کی دلیل ہے کہ نبی ﷺ کو دنیا میں بالکل بھی رغبت نہیں تھی کیونکہ آپ ﷺ نہیں چاہتے تھے کہ مال جمع کریں سوائے اس شے کے جسے آپ ﷺ قرض کی ادائیگی کے لیے سنبھال رکھتے۔ نبی ﷺ کی جب وفات ہوئی تو آپ ﷺ کی زرہ ایک یہودی کے پاس کچھ جَو کے بدلے رہن ميں رکھی ہوئی تھی جسے آپ ﷺ نے اپنے اہل خانہ کے ليے ليے تھے۔ اگر اللہ عز و جل کے نزدیک دنیا محبوب ہوتی تو اللہ تعالی اپنے نبی ﷺ کو اس سے محروم نہيں رکھتا۔ لیکن دنیا ملعون ہے اور اس میں جو کچھ ہے وہ بھی ملعون ہے سوائے اللہ کے ذکر اور اس سے متعلق چیزوں کے اور سوائے عالم اور متعلم کے اور ان کاموں کے جو اللہ کی اطاعت گزاری میں ہوں۔ پھر آپ ﷺ نےفرمایا: ”زیادہ مال ودولت والے ہی روز قیامت (اجر وژواب میں) بہت کم ہوں گے“ یعنی جن کے پاس دنیا کی کثرت ہو گی قیامت کے دن ان کے پاس نیک اعمال کی کمی ہو گی۔ کیونکہ عموماً ایسا ہی ہوتا ہے کہ جس کے پاس دنیا کے مال کی کثرت ہو جاتی ہے وہ استغنا اور تکبر میں مبتلا ہو جاتا ہے اور اللہ کی اطاعت سے رو گردانی کرنے لگتا ہے کیونکہ دنیا اسے غفلت میں ڈال دیتی ہے چنانچہ وہ دنیا میں تو بہت مال والا ہوتا ہے لیکن آخرت میں تہی دامن ہوگا۔ ”جس نے اس طرح، اس طرح اور اس طرح دیا“ یعنی مال کو، اور اسے اللہ کے راستے میں خرچ کیا۔ ”اور ایسے لوگ کم ہی ہیں“ یعنی جو لوگ اللہ کے راستے میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں وہ بہت کم ہیں۔ پھر فرمایا: ”جو بھی اس حال میں مر گیا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا ہوگا تو وہ جنت میں جائے گا اگرچہ وہ زنا کرے اور چوری کرے“ اس سے یہ مراد ہر گز نہیں کہ زنا اور چوری بہت ہلکے گناہ ہیں بلکہ یہ بہت ہی بڑے گناہ ہیں۔ اسی لیے تو ابو ذر رضی اللہ عنہ کو یہ بات بہت بڑی لگی اور انہوں نے پوچھا کہ ”اگرچہ وہ زنا کرے اور چوری کرے“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگرچہ وہ زنا کرے اور چوری کرے“، ایسا اس وجہ سے ہے کہ جو شخص حالت ایمان میں مر جاتا ہے اور اس پر کبیرہ گناہ ہوتے ہیں تو (ایسے لوگوں کے بارے میں) اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿إِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ﴾ ”یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے“۔ ہو سکتا ہے کہ اللہ اس شخص کو معاف کر دے اور اسے عذاب (بھی) نہ دے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ اسے عذاب دے، تاہم اگر عذاب دے گا بھی تو بالآخر وہ جنت میں ہی جائے گا کیونکہ ہر وہ شخص جو اللہ کے ساتھ شرک نہ کرتا ہو اور نہ ہی اس نے کسی کفریہ بات کا ارتکاب کیا ہو تو وہ بالآخر جنت میں جائے گا۔ البتہ جس نے کسی کفریہ عمل کا ارتکاب کیا اور اسی پر اس کی فوات ہوئی ہو تو وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا اور اس کا عمل رائیگاں جائے گا۔ کیونکہ منافقین رسول اللہ ﷺ سے کہا کرتے تھے: ﴿نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّـهِ﴾ ”ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں“ وہ اللہ کا ذکر تو کرتے تھے لیکن بہت کم اور نماز تو پڑھتے تھے لیکن: ﴿وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ﴾ ”اور جب نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو بڑی کاہلی کی حالت میں کھڑے ہوتے ہیں“ اس کے باوجود وہ جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔ یہ حدیث دنیا سے بے رغبتی اختيار کرنے کی دليل ہے اور اس بات کی دلیل ہے کہ انسان کو اپنا دل اس دنيا میں نہیں لگانا چاہیے اور یہ کہ دنیا اس کے ہاتھ میں ہو، دل میں اس کی جگہ نہ ہو۔ تاکہ وہ اپنے دل کے ساتھ اللہ عز وجل کی طرف متوجہ ہو۔ یقینا یہی کمالِ زہد ہے۔ اس کا یہ معنی نہیں کہ آپ اس دنيا میں سے کچھ بھی نہ لیں، بلکہ جو چیز آپ کے لیے حلال ہو وہ لیں اور اس میں سے اپنا حصہ نہ بھولیں لیکن اسے اپنے ہاتھ میں رکھیں، اپنے دل میں اسے جگہ نہ دیں۔ اور يہی اہم بات ہے۔

تشریح: العربية

معنى الحديث: يخبر أبو ذر رضي الله عنه- أنه كان يمشي مع النبي صلى الله عليه وسلم في حَرَّةٍ ذات حجارة سود بالمدينة، فاستقبلهم أُحُدٌ الجبل المعروف فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ما يسرني، أي: لا يفرحني، أن عندي مثل أُحُدٍ هذا ذهبًا فيمر علي ثلاثة أيام وعندي منه شيء، ولا دينار واحد، إلا شيئًا أرصده لدين، فلو كنتُ أملك من المال مقدار جبل أحدٍ من الذهب الخالص لأنفقته كله في سبيل الله، ولم أبق منه إلا الشيء الذي أحتاج إليه في قضاء الحقوق، وتسديد الديون التي علي، وما زاد على ذلك ، فإنه لا يسرني أن يمضي علي ثلاثة أيام وعندي منه شيء. وهذا يدل على أن النبي -صلى الله عليه وآله وسلم- من أزهد الناس في الدنيا؛ لأنه لا يريد أن يجمع المال إلا شيئًا يرصده لدين، وقد توفي صلى الله عليه وسلم ودرعه مرهونة عند يهودي في شعير أخذه لأهله. ولو كانت الدنيا محبوبة إلى الله عز وجل ما حرم منها نبيه صلى الله عليه وسلم ، فالدنيا ملعونة ملعون ما فيها إلا ذكر الله وما والاه وعالمًا ومتعلمًا، وما يكون في طاعة الله عز وجل . ثم قال: "إن الأكثرين هم الأقلون يوم القيامة" يعني: المكثرون من الدنيا هم المقلون من الأعمال الصالحة يوم القيامة؛ لأن الغالب على من كثر ماله في الدنيا الاستغناء والتكبر والإعراض عن طاعة الله؛ لأن الدنيا تلهيه، فيكون مكثرًا في الدنيا مقلًّا في الآخرة. وقوله: "إلا من قال بالمال هكذا وهكذا وهكذا" يعني صرف المال في سبيل الله عز وجل ، ثم قال: "وقليل ما هم" والمعنى أن من ينفق ماله في سبيل الله قليلٌ. ثم قال: (من مات لا يشرك بالله شيئاً دخل الجنة وإن زنى وإن سرق) وهذا لا يعني أن الزنى والسرقة سهلة، بل هي صعبة، ولهذا استعظمها أبو ذر وقال: وإن زنى وإن سرق؟ قال: (وإن زنى وإن سرق). وذلك لأن من مات على الإيمان وعليه معاص من كبائر الذنوب؛ فإن الله يقول: (إن الله لا يغفر أن يشرك به ويغفر ما دون ذلك لمن يشاء)، قد يعفو الله عنه ولا يعاقبه، وقد يعاقبه، ولكن إن عاقبه فمآله إلى الجنة؛ لأن كل من كان لا يشرك بالله ولم يأت شيئًا مكفرًا؛ فإن مآله إلى الجنة، أما من أتى مكفرًا ومات عليه، فهذا مخلد في النار وعمله حابط؛ لأن المنافقين كانوا يقولون للرسول -عليه الصلاة والسلام-: (نشهد إنك لرسول الله)، وكانوا يذكرون الله ولكن لا يذكرون الله إلا قليلاً ويصلون ولكن (وإذا قاموا إلى الصلاة قاموا كسالى) ومع ذلك فهم في الدرك الأسفل من النار. فدل على الزهد في الدنيا، وأن الإنسان لا ينبغي أن يعلق نفسه بها، وأن تكون الدنيا بيده لا بقلبه، حتى يقبل بقلبه على الله عز وجل ؛ فإن هذا هو كمال الزهد، وليس المعنى أنك لا تأخذ شيئًا من الدنيا؛ بل خذ من الدنيا ما يحل لك، ولا تنس نصيبك منها، ولكن اجعلها في يدك ولا تجعلها في قلبك، وهذا هو المهم.

  • تواضع النبي -صلى الله عليه وسلم- مع أصحابه وعدم ترفعه على أحد منهم.
  • حسن أدب أبي ذر -رضي الله عنه- مع رسول الله -صلى عليه وسلم-، وشدة حرصه على سلامته من كل مكروه.
  • جواز حفظ المال لصاحب دين غائب أو لأجل وفاء دين مؤجل حين يحل، وأن وفاء الدين مقدم على صدقة التطوع.
  • وجوب الاهتمام بالدين، والحرص على قضائه والمسارعة إلى تسديده وتقديمه على الإنفاق والصدقة في سبيل الله، لأن تسديد الديون أولى.
  • حث أصحاب الأموال على الإنفاق في سبيل الله؛ لأن الأكثرين هم الأقلون يوم القيامة.
  • لا يكره وجود المال مادام صاحبه ينفق منه في سبيل الله.
  • استجابة الصحابة -رضي الله عنهم- لرسول الله -صلى الله عليه وسلم- وعدم مخالفته.
  • جواز الأخذ بالقرائن، وهذا ظاهر في قول أبي ذر: فسمعت صوتًا ارتفع، فتخوفت أن يكون أحد عرض للنبي -صلى الله عليه وسلم-، ثم إخباره الرسول بذلك وسكوته ـصلى الله عليه وسلم-.
  • صحة المراجعة في العلم بما تقرر عند الطالب في مقابلة ما يسمعه مما يخالف ذلك لأنه تقرر عند أبي ذر من الآيات والآثار الواردة في وعيد أهل الكبائر بالنار وبالعذاب فلما سمع أن من مات لا يشرك دخل الجنة استفهم عن ذلك بقوله: وإن زنى وإن سرق؛ واقتصر على هاتين الكبيرتين؛ لأنهما كالمثالين فيما يتعلق بحق الله وحق العباد.
  • لا ينبغي الإلحاح في المراجعة، ومن فعل ذلك جاز للشيخ زجره بما يليق به كزجر رسول الله -صلى الله عليه وسلم- لأبي ذر، كما في بعض الروايات بقوله: "وعلى رغم أنف أبي ذر".

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید