حدیث

اللہ کی قسم! اللہ کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے، جتنا یہ تمھارے نزدیک حقیر ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن جابر رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر بالسوق والناس كَنَفَتَيَهِ، فمر بِجَدْيٍ أَسَكَّ ميت، فتناوله فأخذ بأذنه، ثم قال: «أيكم يحب أن يكون هذا له بدرهم؟» فقالوا: ما نحب أنه لنا بشيء وما نصنع به؟ ثم قال: «أتحبون أنه لكم؟» قالوا: والله لو كان حيا ًكان عيباً، إنه أسك فكيف وهو ميت! فقال: «فو الله للدنيا أهون على الله من هذا عليكم».

ترجمہ

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک بازار سے گزرے اور آپ ﷺ کے دائیں بائیں جانب لوگ تھے۔ آپ ﷺ کا گزر بکری کے ایک مردہ بچے پر سے ہوا، جس کے کان چھوٹے تھے۔ آپ ﷺ اس کا کان پکڑ کر پوچھنے لگے: تم میں سے کون اسے ایک درہم کے عوض میں خریدنا پسند کرے گا؟ لوگوں نے جواب دیا کہ ہم کسی بھی شے کے بدلے میں اسے خریدنا نہیں چاہتے اور ہم اس کا کریں گے بھی کیا؟۔ آپ ﷺ نے پھر پوچھا: کیا تم چاہتے ہو کہ یہ تمھیں مل جائے؟ لوگوں نے جواب دیا: اللہ کی قسم! اگر یہ زندہ ہوتا، تب بھی عیب دار تھا۔ یہ تو مردہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اللہ کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے، جتنا یہ تمھارے نزدیک حقیر ہے“۔

تشریح

جابر رضی اللہ عنہ ہمیں بتا رہے ہیں کہ نبی ﷺ ایک دفعہ بازار میں ایک چھوٹے کانوں والے بکری کے بچے کے پاس سے گزرے۔ "الجدی" بکری کے چھوٹے بچے کو کہا جاتا ہے۔ یہ "أسك" تھا، یعنی اس کے کان کٹے ہوئے تھے۔ نبیﷺ نے اسے پکڑ کر اوپر اٹھایا اور فرمایا: کیا تم میں سے کوئی اسے ایک درہم کے عوض میں لینا چاہتا ہے؟۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم کسی بھی شے کے عوض میں اسے نہیں لیں گے! آپ ﷺ نے پھر پوچھا: کیا تم میں سے کوئی شخص چاہتا ہے کہ یہ اس کا ہو؟ انھوں نے جواب دیا: نہیں! اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے نزدیک دنیا اس بکری کے بچےسے بھی زیادہ ہیچ ہے! نبی ﷺ چاہتے تھے کہ اپنے صحابہ اور اپنے بعد آنے والی اپنی امت کے لیے واضح کر دیں کہ اللہ کے نزدیک دنیا اس مردہ کٹے ہوئے کانوں والے بکری کے بچے سے بھی زیادہ ہیچ اور حقیر ہے، جس سے پاکیزہ نفوس کو گھن آتی ہے۔ یہ دنیا کا آخرت کے مقابلے میں حال ہے کہ یہ اللہ کے نزدیک کوئی وقعت نہیں رکھتی اور مچھر کے پر کے برابر بھی وزن نہیں رکھتی، جیسا کہ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: ”اگر دنیا اللہ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی اہمیت رکھتی ہوتی، تو وہ کافر کو ایک گھونٹ پانی تک نہ پلاتا“۔ (ترمذی) نبی ﷺ چاہتے تھے کہ اپنے صحابہ کو اور آپ ﷺ کے بعد آنے والی اپنی امت کو اس بات پر ابھاریں کہ وہ دنیا کو اللہ کی رضا پانے کا ذریعہ بنائیں، نہ کہ اپنی منزل اور مقصد؛ کیوں کہ اس میں ان کی ہلاکت ہے۔

تشریح: العربية

يخبرنا جابر رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم مرَّ في السوق بجدي أسك، والجدي من صغار الماعز، وهو أسك: أي مقطوع الأذنين، فأخذه النبي -عليه الصلاة والسلام- ورفعه وقال: هل أحد منكم يريده بدرهم؟" قالوا: يا رسول الله، ما نريده بشيء قال: هل أحد منكم يود أن يكون له؟ قالوا: لا. قال: إن الدنيا أهون عند الله تعالى من هذا الجدي. أراد النبي صلى الله عليه وسلم أن يبين لأصحابه ولأمته من بعده أن الدنيا أهون وأحقر عند الله تعالى من هذا الجدي الأسك الميت، التي ترغب عنه النفوس السليمة، فهذا حال الدنيا بالنسبة للآخرة، لا قيمة لها عند الله ولا تزن جناح بعوضة، كما في حديث سهل بن سعد رضي الله عنه عن النبي -صلى الله عليه وسلم-: (لو كانت الدنيا تعدل عند الله جناح بعوضة، ما سقى كافرا منها شربة ماء). رواه الترمذي. وأراد النبي صلى الله عليه وسلم أن يحث أصحابه وأمته من بعده على أن يجعلوا الدنيا وسيلة إلى الوصول إلى مراد الله، لا أن تكون غايتهم ومقصدهم، فإن في ذلك هلاكهم.

  • لمس النجس إذا لم تكن رطوبة من أحد الجانبين لا ينجس.
  • الدنيا أذل وأحقر عند الله -تعالى- من هذا الجدي الميت عند الناس.
  • ضرب الأمثال للناس بما يعقلونه يقرب المراد ويوضح القصد، ويؤكد الفهم، ويوقفهم على حقائق الأشياء.
  • ينبغي على أهل العلم والدعاة تذكير الناس بحقارة الدنيا، وحثهم على الزهد فيها وتحذيرهم من الركون إليها.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید