حدیث

کون ہے جو مجھے اس بات کی ضمانت دے کہ وہ لوگوں سے کوئی چیز نہیں مانگے گا اور میں اسے جنت کی ضمانت دوں؟۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن ثوبان رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «من تَكَفَّلَ لي أن لا يسأل الناس شيئًا، وأَتَكَفَّلُ له بالجنة؟» فقلت: أنا، فكان لا يَسأل أحدًا شيئًا.

ترجمہ

ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہي کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کون ہے جو مجھے اس بات کی ضمانت دے کہ وہ لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہیں کرے گا اور میں اسے جنت کی ضمانت دوں؟“، ثوبان نے کہا کہ میں (ضمانت دیتا ہوں)، چنانچہ وہ کسی سے کوئی چیز نہیں مانگتے تھے۔

تشریح

حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اللہ کے نبی ﷺ کے لیے لوگوں سے ان کے اموال مانگنا اور اپنے معاملات کے نپٹانے میں ان سے مدد مانگنا چھوڑ دے خواہ یہ مانگنا تھوڑی چیز کا ہو یا زیادہ کا، تو اللہ کے رسول ﷺ نے اسے جنت کی ضمانت دی ہے۔ اس لیے کہ مخلوق سے نہ مانگنے میں اللہ کی ذات پر توکل ہوگا اور یہ اللہ کی ذات پر اعتماد اور اللہ سے قوی امید وابستہ رکھنے کی علامت ہے۔ چنانچہ اس کا بدلہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا۔ ثوبان رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو آپ ﷺ سے سننے کے بعد نبی ﷺ سے یہ وعدہ کیا کہ وہ لوگوں سے کچھ بھی نہیں مانگیں گے، چنانچہ ابنِ ماجہ کی روایت میں ان کے بارے میں منقول ہے کہ یہ سوار ہوتے ان کا کوڑا گر جاتا تو کسی سے نہ کہتے کہ مجھے میرا کوڑا دیدو، بلکہ خود اتر کر لے لیتے۔ یہ اس عہد کی پاسداری ہے جو انہوں نے آپ ﷺ سے کر کے اسے اپنے اوپر لازم کیا تھا۔

تشریح: العربية

معنى الحديث: أن من التزم للنبي صلى الله عليه وسلم ترك سؤال الناس أموالهم أو الاستعانة بهم في قضاء شؤونه مما قل أو كثر، ضمن له -عليه الصلاة والسلام- الجنة؛ ذلك لأن ترك سؤال المخلوقين فيه توكل على الله ودليل على قوة الرَّجاء والثقة بالله تعالى ، فكان جزاؤه أن يدخله الله تعالى الجنة. بعد أن سمع ثوبان رضي الله عنه هذا الحديث، التزم للنبي صلى الله عليه وسلم أن لا يسأل الناس شيئا، حتى جاء عنه رضي الله عنه كما في رواية ابن ماجه: "أنه كان يقع سَوْطُه وهو راكب فلا يقول لأحدٍ ناولنيه حتى ينزل فيأخذه". وفاء بالعهد الذي قطعه على نفسه مع رسول الله صلى الله عليه وسلم .

  • الحث على عدم سؤال الناس، والاعتماد على النفس في قضاء الحوائج.
  • فضيلة ثوبان -رضي الله عنه-.
  • حرص الصحابة على الالتزام بعهودهم.
  • تريبة النفس وتهذيبها على الاستغناء عن الناس.
  • الترغيب بالجنة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید