ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أبي سعيد الْخُدْرِي رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «مَنْ رَضِيَ بالله رَبًّا، وبالإسلام دِيْنًا، وبمحمد رسولًا، وجَبَتْ له الجنة»، فَعَجِبَ لها أبو سعيد، فقال: أَعِدْهَا عَلَيَّ يا رسول الله، فَأَعَادَهَا عليه، ثم قال: «وأُخْرَى يَرْفَعُ الله بها العَبْد مائة دَرَجَة في الجنة، ما بين كل دَرَجَتَينِ كما بين السماء والأرض» قال: وما هي يا رسول الله؟ قال: «الجهاد في سَبِيل الله، الجهاد في سَبِيل الله».
ترجمہ
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پرراضی ہو گیا، اس کے لئے جنت واجب ہو گئی۔ اس پر ابو سعید نے متعجب ہو کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس بات کو دوبارہ کہیئے۔ آپ ﷺ نے اسے ان کے سامنے دوبارہ بیان کیا۔ پھر فرمایا: ایک اور (عمل) ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالی بندے کے جنت میں سو درجات بلند کرتا ہے۔ دو درجوں کے مابین اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین کے مابین فاصلہ ہے۔ انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! اوہ عمل کون سا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد کرنا، اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔
تشریح
حدیث کا مفہوم: جو شخص اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پر ایمان لے آیا، اس کے لئے جنت واجب ہو گئی۔ مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ: "اے ابو سعید! تین باتیں ایسی ہیں جو ان کا قائل ہو گیا وہ جنت میں داخل ہو گیا۔ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! وہ تین باتیں کون سی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پر راضی ہو گیا"۔ جب ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے یہ بات سنی تو انہیں اس پر تعجب ہوا اور انہوں نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ وہ ان پر اس بات کا اعادہ کریں۔ آپ ﷺ نے اس بات کا اعادہ کیا، پھر ان سے فرمایا: " ایک اور ہے۔" یعنی نیکی و فرماں برداری کے کاموں میں سے ایک اور ہے۔ "جس کی وجہ سے اللہ تعالی بندے کے جنت میں سو درجات بلند کرتا ہے۔ دو درجوں کے مابین اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین کے مابین فاصلہ ہے۔‘‘ نبی ﷺ نے انہیں بتایا کہ ایک عمل ایسا ہے جس کے کرنے والے کے اللہ تعالی جنت میں سو درجات بلند کرتا ہے۔ شروع میں آپ ﷺ نے انہیں اس عمل کے بارے میں نہیں بتایا۔ تاکہ ابو سعید رضی اللہ عنہ کو اس کے جاننے کا اشتیاق ہو اور وہ خود اسے پوچھیں۔ جب ابہام کے بعد انہیں اس کا پتہ چلے گا تو یہ ان کے لئے زیادہ پر اثر ہو گا۔ چنانچہ انہوں نے پوچھا کہ: اے اللہ کے رسول! وہ عمل کون سا ہے؟ آپ ﷺ نے جواب دیا: ’’اللہ کے راستے میں جہاد کرنا، اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔‘‘ مجاہد اگرچہ اہل جنت میں سے ہوتا ہے، تاہم اس کا مقام ان دیگر لوگوں سے بلند تر ہوتا ہے جو اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پر ایمان لائے لیکن انہوں نے اللہ تعالی کے راستے میں جہاد نہیں کیا۔ یہ اللہ کی طرف سے جہاد فی سبیل اللہ کرنے والوں کے لئے فضیلت و اکرام ہے۔ چونکہ انہوں نے اللہ کے راستے میں اپنی جانیں قربان کر دیں، اس لئے اللہ تعالی انہیں جنت میں سب سے افضل اور بلند ترین درجات سے سرفراز فرمایا۔ اور بدلہ ویسے ہی ملتا ہے جیسا عمل ہوتا ہے۔
تشریح: العربية
معنى الحديث: أن مَنْ آمن بالله ربَّا وبالإسلام دِيناً وبمحمد صلى الله عليه وسلم رسولاً وجبت له الجنة. وفي رواية عند أحمد: "يا أبا سعيد ثلاثة من قالهن: دخل الجنة" قلت: ما هن يا رسول الله؟ قال: "من رضي بالله رباًّ، وبالإسلام ديناً، وبمحمد رسولاً". فلما سمع أبو سعيد الخدري رضي الله عنه هذه المقولة من النبي صلى الله عليه وسلم تَعَجَّب لها وطلب من النبي صلى الله عليه وسلم أن يعيدها عليه مرة أخرى، فأعَادها عليه، -عليه الصلاة والسلام-، ثم قال له: "وأُخْرَى" أي: من أعمال البِرِّ والطاعات " يَرْفَعُ الله بها العَبْد مائة دَرَجَة في الجنة، ما بَيْن كل دَرَجَتَينِ كما بَيْن السماء والأرض". فالنبي صلى الله عليه وسلم أخبره أن هناك عملاً يرفع الله به صاحبه في الجنة مائة درجة، ولم يخبره بذلك ابتداء؛ ليتشوق لها أبوسعيد رضي الله عنه لأجل أن يسأل عنها، فإذا علمها بعد الإبهام كانت أوقع في نفسه، فقال: وما هي يا رسول الله؟ قال صلى الله عليه وسلم : " الجهاد في سَبِيل الله، الجهاد في سَبِيل الله". فالمجاهد مع كونه من أهل الجنة، إلا أن منزلته أرفع من غيره ممن آمن بالله ربَّا وبالإسلام دِيناً وبمحمد صلى الله عليه وسلم رسولاً ولم يجاهد في سبيل الله تعالى، وهذا من فضل الله تعالى وكرمه للمجاهدين في سبيله، فلما جادوا بأنفسهم في سبيل الله تعالى أكرمهم الله تعالى وأنزلهم في الجنة أفضل المنازل وأعلى الدرجات، والجزاء من جنس العمل.
- أن دخول الجنة بالإيمان والتفاضل فيها بالأعمال.
- تعظيم أمر الجهاد في سبيل الله -تعالى-.
- رفعة منزلة المجاهد في الجنة.
- في الجنة درجات لا تحصى، ومنازل لا تُعَد، وللمجاهدين مائة درجة منها.
- محبة أصحاب رسول الله -صلى الله عليه وسلم- لمعرفة الخير، وأبوابه وأسبابه.