حدیث

جسے یہ اچھا لگتا ہو کہ اللہ اسے قیامت کے دن کی تنگیوں سے نجات عطا کرے، اسے چاہبے کہ تنگ دست کو مہلت دے یا پھر اس کا (کچھ یا سارا) قرض معاف کر دے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه مسلم

عربی متن

عَنْ أَبَي قَتَادَةَ رضي الله عنه أنَّهُ طَلَبَ غَرِيمًا لَهُ، فَتَوَارَى عَنْهُ ثُمَّ وَجَدَهُ، فَقَالَ: إِنِّي مُعْسِرٌ، فَقَالَ: آللَّهِ؟ قَالَ: آللَّهِ؟ قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُنْجِيَهُ اللهُ مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلْيُنَفِّسْ عَنْ مُعْسِرٍ أَوْ يَضَعْ عَنْهُ».

ترجمہ

ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ وہ پنے ایک قرض دار کو ڈھونڈ رہے تھے۔ دراصل وہ چھپتا پھر رہا تھا۔ ایک دن مل گیا، تو کہنے لگا کہ میں تنگ دستی کا شکار ہو چکا ہوں۔ لہذا ابو قتادہ نے پوچھا کہ کیا تم اللہ کی قسم کھا کر کہہ سکتے ہو کہ تنگ دستی کے شکار ہو؟ اس نے جواب دیا کہ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تنگ دستی کا شکار ہوں۔ چنانچہ ابو قتادہ نے کہا: میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا: "جسے یہ اچھا لگتا ہو کہ اللہ اسے قیامت کے دن کی تنگیوں سے نجات عطا کرے، اسے چاہبے کہ تنگ دست کو مہلت دے یا پھر اس کا (کچھ یا سارا) قرض معاف کر دے۔"

تشریح

ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ ایک شخص کی تلاش میں تھے جس نے ان سے قرض لیا تھا اور ان سے چھپتا پھرتا تھا۔ آخر کار انہوں نے اسے ڈھونڈ لیا۔ قرض لینے والے نے کہا: میں تنگ دست ہوں اور میرے پاس تمہارا قرض ادا کرنے کے لیے کوئی مال نہیں ہے۔ ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے اسے اللہ کی قسم کھانے کو کہا کہ کیا واقعی اس کے پاس کوئی مال نہیں ہے؟ اس نے اللہ کی قسم کھاکر بتایا کہ وہ سچ بول رہا ہے۔ بعد ازاں ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انھوں نے اللہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا: جسے یہ بات خوش اور مسرور کرتی ہو کہ اللہ اسے قیامت کے دن کی پریشانیوں، شدتوں اور ہولناکیوں سے نجات دے، وہ تنگدست کی تنگی دور کرے۔ یعنی قرض کی ادائیگی کے لیے مہلت دے، یا قرض کا کچھ حصہ یا پورا قرض معاف کر دے۔

فوائد

  • تنگ دست کو اس کی تنگ دستی دور ہونے تک مہلت دینا یا اس کے سر پر لدے ہوئے قرض کے بوجھ کو کلی یا جزئی طور پر ہلکا کرنا مستحب ہے۔
  • جو شخص کسی مومن سے دنیا کی کوئی تکلیف دور کرے گا، اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کے دن کی بعض سختیوں کو دور کرے گا۔ کیوں کہ انسان کو بدلہ اسی جنس کا دیا جاتا ہے، جس جنس کا وہ عمل کرتا ہے۔
  • قاعدہ: فرائض نوافل سے افضل ہیں۔ لیکن کبھی کبھی نفل فرض سے افضل ہو جاتا ہے۔ جیسے کسی تنگ دست کے قرض کو معاف کر دینا نفل ہے اور اس کے بارے میں تحمل سے کام لینا، فراخی کا انتظار کرنا اور مطالبہ کر کے تنگ نہ کرنا فرض ہے۔ لیکن یہاں نفل فرض سے افضل ہے۔
  • یہ حدیث تنگ دست کے بارے میں ہے، جو کہ معذور ہے۔ رہی بات ٹال مٹول کرنے والے کی، تو اس کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "مال دار شخص کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔"
تشریح: العربية

كان أبو قتادة الأنصاري رضي الله عنه يبحث عن مَدِيْنٍ له يَخْتَبِئ عنه، فوجده، فقال الغَريم: إني مُعسر، وليس عندي مال لأقضي دينك. فاستحلفه أبو قتادة رضي الله عنه بالله أنه لا مال عنده؟ فحلف بالله أنه صادق فيما يقول. فقال أبو قتادة رضي الله عنه إنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول: مَن سرّه وأفرحه أن ينجيَه الله من كُرب يوم القيامة وشدائدها وأهوالها، فلينفِّس عن معسر، بأن يَمُدَّ ويؤخّر المطالبة بالدَّيْن، أو يُسقط بعض الدين أو كله.

  • استحباب إنظار المُعْسر إلى مَيْسرة، أو وضع الدَّين عنه، كله أو بعضه.
  • من نَفَّس عن مؤمن من كُرب الدنيا نَفَّس الله عليه من كُرَب يوم القيامة، والجزاء من جِنس العمل.
  • القاعدة: أن الفرائض أفضل من النوافل، لكن في بعض الأحيان تكون النافلة أفضل من الفريضة، وإسقاط الدين عن المعسر نافلة، والصبر عليه والانتظار وعدم المطالبة هذا فريضة، والنافلة أفضل من الفريضة هنا.
  • الحديث في حق من كان معسرًا، فهذا معذور، أما المُماطِل الذي عنده مال، فقد جاء عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: "مَطْلُ الغني ظُلْم".

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید