حدیث

جس نے دو ٹھنڈی نمازیں (فجر و عصر کی نمازیں) ادا کیں، وہ جنت میں داخل ہوگا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عن أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ رضي الله عنه: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ: «مَنْ صَلَّى ‌الْبَرْدَيْنِ دَخَلَ الْجَنَّةَ»

ترجمہ

ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "جس نے دو ٹھنڈی نمازیں (فجر و عصر کی نمازیں) ادا کیں، وہ جنت میں داخل ہوگا۔"

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دو ٹھنڈی نمازوں یعنی فجر اور عصر کی نمازوں کا اہتمام کرنے کی ترغیب دی ہے اور انھیں کما حقہ ادا کرنے، یعنی وقت پر اور جماعت کے ساتھ پڑھنے وغیرہ کا خیال رکھنے والے کو خوش خبری سنائی ہے کہ یہ اس کے لیے دخول جنت کا سبب بنیں گی۔

فوائد

  • فجر اور عصر کی نماز پابندی سے پڑھنے کی فضیلت، کیوں کہ فجر کی نماز میٹھی نیند کے وقت پڑھی جاتی ہے اور عصر کی نماز کام کاج کے وقت۔ لہذا ان کی پابندی کرنے والا بدرجۂ اولی باقی نمازوں کی پابندی کرے گا۔
  • فجر اور عصر کی نماز کو ٹھنڈی نمازوں کا نام اس لیے دیا گیا ہے کہ فجر کی نماز کے وقت رات کی ٹھنڈک ہوا کرتی ہے اور عصر کی نماز کے وقت دن کی ٹھنڈک۔ ویسے تو عصر کی نماز گرمی کے وقت پڑھی جاتی ہے، لیکن اس وقت گرمی پہلے سے کم ہو جایا کرتی ہے۔ یا پھر ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ یہ نام تغلیبا دیا گیا ہو۔ جیسا کہ عربوں کے یہاں سورج اور چاند کو القمران یعنی دو چاند کہا جاتا ہے۔
تشریح: العربية

حَثَّ النبيُّ صلى الله عليه وسلم على الحرصِ على صلاة البردين وهما صلاة الفجر والعصر، وبشَّر مَن أتى بهما بحقهما من وقت وجماعة وغير ذلك كانتا سببًا في دخوله الجنة.

  • فضل المحافظة على صلاة الفجر والعصر؛ لأن الفجر يكون عند لذة النوم، والعصر يكون عند اشتغال الإنسان بعمله، فمن حافظ عليهما كان من باب أولى أن يحافظ على بقية الصلوات.
  • سميت صلاة الفجر والعصر بالبردين؛ لأن صلاة الفجر فيها برد الليل، وصلاة العصر فيها برد النهار وإن كانت في وقتٍ حارٍ إلا أنه أخف من الوقت قبلها، أو تكون تسميتُها من باب التغليب كما يقال: القمران للشمس والقمر.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید