ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُصِبْ مِنْهُ».
ترجمہ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اسے آزمائش میں ڈالتا ہے۔"
تشریح
اللہ کے نبی ﷺ بتا رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جب اپنے کسی مؤمن بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، تو اسے جان، مال اور اہل و عیال کے سلسلے میں آزمائش میں ڈالتا ہے، کیوں کہ اس سے بندے کو اللہ تعالیٰ سے لو لگانے کا موقع ملتا ہے، اس کے گناہ معاف ہوتے ہیں اور اس کے درجات بلند ہوتے ہيں۔
فوائد
- مؤمن کو طرح طرح کی آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
- آزمائش کبھی کبھی بندے سے اللہ تعالیٰ کی محبت کی نشانی ہوا کرتی ہے۔ اللہ بندے کو آزماتا اس لیے ہے کہ اس کا درجہ بلند ہو، اس کا مرتبہ اونچا ہو اور اس کے گناہ بخش دیے جائیں۔
- مصیبتوں کے وقت جزع فزع کرنے کی ممانعت اور صبر سے کام لینے کی ترغیب۔
تشریح: العربية
يُخبِرُ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنَّ الله إذا أراد بأحدٍ من عباده المؤمنين خيرًا ابتلاهم في أنفسهم وأموالهم وأهلهم، لِمَا يحصل فيه للمؤمن من اللجوء إلى الله تعالى بالدعاء، وتكفير السيئات، ورِفْعَة الدرجات.
- أن المؤمن مُعرَّض لأنواع من البلاء.
- الابتلاء قد يكون أمارة حُبِّ الله لعبده، حتى يرفع درجته، ويُعْلِي مَرتبته، ويكفِّر خطيئته.
- الحث على الصبر عند المصائب وعدم الجزع.