ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنِ البَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رضي الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «المُسْلِمُ إِذَا سُئِلَ فِي القَبْرِ: يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ»، فَذَلِكَ قَوْلُهُ: {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ} [إبراهيم: 27].
ترجمہ
براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "مسلمان سے جب قبر میں سوال ہو گا تو وہ گواہی دے گا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔" اللہ تعالیٰ کے ارشاد: ”يُثَبِّتُ اللهُ الذِينَ آمَنُوا بالقَوْلِ الثَّابِتِ في الحَيَاةِ الدُّنْيَا وفي الآخِرَةِ‘‘ [سورہ ابراہیم: 27] (اللہ ایمان والوں کو اس پکی بات کے ذریعہ مضبوط رکھتا ہے، دنیوی زندگی میں (بھی) اور آخرت میں (بھی))ــــــــــــــــ کا یہی مطلب ہے۔
تشریح
ہر مومن سے قبر کے اندر کچھ سوالات کیے جائيں گے۔ سوالات اس کام پر متعین دو فرشتے کریں گے، جن کا نام کئی حدیثوں میں منکر اور نکیر آیا ہے۔ چنانچہ وہ اس بات کی گواہی دے گا کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہيں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہيں۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ یہی وہ قولِ ثابت ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا: "ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ پکی بات کے ساتھ مضبوط رکھتا ہے، دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی۔" [إبراهيم: 27].
فوائد
- قبر کا سوال بر حق ہے۔
- مومن بندوں پر دنیا و آخرت میں اللہ کا فضل و کرم کہ ان کو قولِ ثابت کے ذریعے ثابت قدم رکھے گا۔
- توحید کی گواہی دینے اور اسی گواہی کے ساتھ دنیا سے رخصت ہونے کی فضیلت۔
- مومن کے دنیا میں ثابت قدم رہنے سے مراد ہے ایمان پر ثابت قدم رہنا، سیدھے راستے پر چلنا، موت کے وقت ثابت قدم رہنے سے مراد ہے توحید پر مرنا اور قبر میں ثابت قدم رہنے سے مراد ہے فرشتوں کے سوال کے وقت ثابت قدم رہنا۔
تشریح: العربية
يُسألُ المؤمنُ في القبر، فيسأله الملكان الموكَّلان بذلك وهما منكر ونكير، كما جاء تسميتهما في عدة أحاديث، فيشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدًا رسول الله، قال النبي صلى الله عليه وسلم هذا هو القول الثابت الذي قال الله فيه: {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ} [إبراهيم: 27].
- أنَّ سؤال القبر حق.
- فضل الله على عباده المؤمنين في الدنيا والآخرة بتثبيتهم على القول الثابت.
- فضل شهادة التوحيد والموت عليها.
- تثبيت الله للمؤمن في الدنيا بالثبات على الإيمان، وسلوك الصراط المستقيم، وعند الموت بالموت على التوحيد، وفي القبر عند سؤال الملكين.