حدیث

”بے شک اللہ تعالیٰ نے میری خاطر میری امت سے غلطی، بھول چوک اور مجبوراً کرائے گئے کام کو معاف کر دیا ہے۔“

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

نووی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔اسے ابن ماجہ اور بیہقی وغیرہ نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لِي عَنْ أُمَّتِي الخَطَأَ وَالنِّسْيَانَ وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ».

ترجمہ

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے میری خاطر میری امت سے غلطی، بھول چوک اور مجبوراً کرائے گئے کام کو معاف کر دیا ہے۔“

تشریح

اللہ کے نبی ﷺ بتا رہے ہیں کہ اللہ نے آپ کی امت سے درج ذیل تین احوال میں ہونے والے گناہوں کو معاف کر دیا ہے: 1- غلطی سے ہونے والے گناہ۔ یعنی ایسے گناہ جو بالارادہ نہ کیے گئے ہوں۔ مثلا کوئی مسلمان کوئی کام کرنے کا ارادہ کرے، لیکن اس سے کچھ اور ہو جائے۔ 2- بھول چوک سے ہونے والے گناہ۔ یعنی کسی مسلمان کو کوئی بات یاد تو ہو، لیکن جب کرنے کا وقت آئے، تو بھول جائے۔ ایسا ہونے پر کوئی گناہ نہيں ہے۔ 3- زور زبردستی سے کرایا گیا گناہ۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان کو کوئی ایسا کام کرنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے، جسے وہ کرنا نہیں چاہتا اور اس کے پاس حالات کا مقابلہ کرنے کی طاقت بھی نہیں ہوتی۔ اس طرح کی صورت حال میں اسے کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ یہاں یہ یاد رہے کہ اس حدیث کا تعلق ایسے گناہ سے ہے، جن کا تعلق بندہ اور اس کے رب سے ہو۔ کسی مامور فعل کو بھول جانے سے وہ ساقط نہيں ہو جاتا۔ اسی طرح اگر کسی کے بھول کر کوئی کام کردینے سے کسی مخلوق کا کچھ نقصان ہو جائے، تو مخلوق کا حق ساقط نہيں ہوگا۔ مثلا غلطی سے کسی کا قتل کر دے، تو دیت دینی ہوگی۔ اسی طرح کسی کی گاڑی کا نقصان کر دے، تو اس کا ہرجانہ دینا ہوگا۔

فوائد

  • بندوں پر اللہ کا بے پایاں لطف وکرم کہ اس نے مذکورہ احوال میں صادر ہونے والے گناہوں سے درگزر فرمایا ہے۔
  • محمد عربی ﷺ اور آپ کی امت پر اللہ کا فضل وکرم۔
  • گناہ نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حکم نافذ نہيں ہوگا اور ہرجانہ نہيں بھرنا پڑے گا۔ مثلا کوئی وضو کرنا بھول گیا اور یہ سمجھ کر کہ باوضو ہے، نماز پڑھ لی، تو اسے کوئی گناہ تو نہيں ہوگا، لیکن وضو کر کے دوبارہ نماز پڑھنی پڑے گی۔
  • زور زبردستی کی صورت میں گناہ نہ ہونے کے لیے اس کی شرطوں کا پایا جانا ضروری ہے۔ مثلا زبردستی کرنے والا وہ کام کرنے پر قادر بھی ہو، جس کی دھمکی وہ دے رہا ہے۔
تشریح: العربية

يخبر النبي صلى الله عليه وسلم : أن الله عفا عن أمته في ثلاثة أحوال: الأولى: الخطأ، وهو ما صدر منهم دون تعمد، وهو أن يقصد المسلم بفعله شيئًا، فيصادف فعله غير ما قصده. والثانية: النسيان، وهو أن يكون المسلم متذكرًا لشيء، ولكن ينساه عند الفعل، فلا إثم في ذلك أيضًا. والثالثة: الإكراه ، فقد يُكره العبد على فعل شيء لا يريده مع عدم قدرته على دفع الإكراه، وحينئذٍ لا يقع عليه الإثم أو الحرج. مع ملاحظة أن موضوع الحديث فيما بين العبد وربه في فعل المحظور، فأما ترك المأمور نسيانًا فلا يسقط، وأما لو ترتب على فعله ذلك جناية فلا يسقط حق المخلوق، كما لو قتل خطًأ، فعليه الدية، أو أتلف سيارة خطأ فعليه الضمان.

  • سعة رحمة الله -عزّ وجل- ولطفه بعباده حيث رفع عنهم الإثم إذا صدرت منهم المعصية على هذه الأحوال الثلاثة.
  • فضل الله على النبي محمد صلى الله عليه وسلم وأمته.
  • رفعُ الإثم لا يعني رفع الحكم أو الضمان، فمثلًا من نسي الوضوء، وصلى ظانًّا أنه متطهر، فلا إثم عليه بذلك، ولكن عليه الوضوء وإعادة الصلاة.
  • لا بد في رفع الإثم بالإكراه من توفر الشروط، مثل أن يكون المكِره قادرًا على تنفيذ ما هدد به.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید