ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا مَنْ لَهُ نَعْلَانِ وَشِرَاكَانِ مِنْ نَارٍ، يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ كَمَا يَغْلِ الْمِرْجَلُ، مَا يَرَى أَنَّ أَحَدًا أَشَدُّ مِنْهُ عَذَابًا، وَإِنَّهُ لَأَهْوَنُهُمْ عَذَابًا».
ترجمہ
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن جہنمیوں میں سے سب سے کم عذاب اس شخص کو ہو رہا ہو گا، جس کے لئے آگ کے دو جوتے اور دو تسمے ہوں گے، ان سے اس کا دماغ اس طرح کھولے گا جس طرح ہنڈیا کھولتی ہے۔ وہ سمجھے گا کہ اس سے زیادہ سخت عذاب کسی کو نہیں ہو رہا ہے۔ حالاں کہ اسے ان سب سے ہلکا عذاب ہو رہا ہو گا“۔
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ قیامت کے دن سب سے ہلکے عذاب والا شخص وہ ہوگا، جس کے پیروں میں آگ کے دو جوتے ہوں گے، جن کی گرمی سے اس کا دماغ پیتل کی ہانڈی کی طرح کھول رہا ہوگا۔ وہ سمجھ رہا ہوگا کہ اس سے زیادہ سخت عذاب کسی کو نہيں ہو رہا ہوگا۔ حالاں کہ اسے سب سے زیادہ ہلکا عذاب ہو رہا ہوگا۔
فوائد
- کافروں اور نافرمانوں کے لیے جہنم کے اس خطرناک عذاب سے تنبیہ، تاکہ جہنم تک لے جانے والی چیزوں سے دور رہیں۔
- بد اعمالیوں کے مطابق جہنم میں جانے والوں کے درجات الگ الگ ہوں گے۔
- جہنم کے عذاب کی سختی۔ اللہ ہمیں اس سے محفوظ رکھے۔
تشریح: العربية
أَخْبَرَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنَّ أهونَ أهلِ النار عذابًا يوم القيامة مَن له نَعْلان وشِرَاكان يَغلي دماغه من حرارتهما، كما يغلي قِدْر النحاس، ولا يَرى أن أحدًا أشد عذابًا منه، وإنه لأهونهم عذابًا وذلك ليجتمع عليه العذاب الجسدي والنفسي.
- التحذير للعصاة والكافرين مِن هَوْل هذا العذاب في النار؛ ليبتعدوا عما يؤدي إليه.
- اختلاف دَرَكَات الداخلين النار بحسب سوء أعمالهم.
- شدة عذاب النار، سلَّمنا الله تعالى منها.