ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن جابرٍ رضي الله عنه : أَنَّ رسولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ يومَ فَتْحِ مَكَّةَ وعليه عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ. عن أبي سعيدٍ عمرو بنِ حُرَيْثٍ رضي الله عنه قال: كَأَنِّي أَنْظُرُ إلى رسولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم وعليه عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ، قَدْ أَرْخَى طَرَفَيْهَا بَيْنَ كَتِفَيْهِ. في رواية: أَنَّ رسولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم خَطَبَ النَّاسَ، وعليه عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ.
ترجمہ
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئےتو آپ ﷺ نے سیاہ عمامہ پہن رکھا تھا۔ ابو سعید عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: گویا میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ ﷺ نے سیاہ عمامہ باندھ رکھا ہے جس کے دونوں کنارے آپ ﷺ کے دونوں شانوں کے مابین لٹک رہے ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں سے خطاب فرما رہے تھے اور آپ ﷺ نے سیاہ عمامہ باندھ رکھا تھا۔
تشریح
جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ فتح مکہ کے سال مکہ میں داخل ہوئے تو آپ ﷺ نے سیاہ عمامہ باندھا ہوا تھا۔ اس میں سیاہ رنگ کے لباس کے پہننے کا جواز ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ نبی ﷺ لوگوں سے خطبہ ارشاد فرما رہے تھے اور آپ ﷺ نے سیاہ عمامہ باندھ رکھا تھا۔ اس میں اس بات کا جواز ہے کہ سیاہ لباس پہنا جا سکتا ہے اگرچہ سفید لباس افضل ہے جیسا کہ صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ: ”تمہارا سب سے بہتر لباس سفید ہے“۔ آپ ﷺ نے سیاہ عمامہ جس کا بیان اس حدیث میں ہے اس لئے پہنا تاکہ اس سے جواز کا علم ہو سکے۔ جب کہ عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کا کہنا کہ میں گویا رسول اللہ ﷺ کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ ﷺ نے سیاہ عمامہ پہن رکھا ہے جس کے دونوں کنارے آپ ﷺ کے دونوں شانوں کے مابین لٹک رہے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عمامہ کا سیاہ ہونا اور اس کا شانوں کے مابین لٹکانا جائز ہے۔
تشریح: العربية
في حديث جابر أخبر رضي الله عنه أن النبي -عليه الصلاة والسلام- دخل عام الفتح وعليه: (عمامة سوداء) ففيه جواز لباس الثياب السود، وفي الرواية الأخرى: خطب الناس وعليه عمامة سوداء فيه جواز لباس الأسود، وإن كان الأبيض أفضل منه كما ثبت في الحديث الصحيح: "خير ثيابكم البياض"، وإنما لبس العمامة السوداء في هذا الحديث بيانا للجواز. وأما قول عمرو بن حريث في الحديث الآخر: (كأني أنظر إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وعليه عمامة سوداء قد أرخى طرفيها بين كتفيه)، فهو يدل على جواز كون العمامة سوداء ومدلاة بين الكتفين.
- جواز لبس العمامة السوداء.
- استحباب إرخاء طرف العمامة بين الكتفين.
- اهتمام الصحابة -رضي الله عنهم- بنقل دقائق حياة الرسول -صلى الله عليه وسلم-.
- جواز دخول مكة بغير إحرام.