حدیث

رسول اللہ ﷺ کبھی کسی عمل کو چاہتے ہوئے بھی محض اس ڈر سے ترک فرما دیتے تھے کہ لوگوں کے عمل کرنے سے کہیں وہ ان پر فرض نہ ہو جائے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أم المؤمنين عائشة رضي الله عنها قالت: إِنْ كَانَ رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم لَيَدَعُ العَمَلَ، وهو يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ؛ خَشْيَةَ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ النَّاسُ فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ.

ترجمہ

عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کبھی ایک عمل کو چاہتے ہوئے بھی محض اس ڈر سے ترک فرما دیتے تھے کہ لوگوں کے عمل کرنے سے کہیں وہ ان پر فرض نہ ہو جائے۔

تشریح

نبی ﷺ کسی عمل کو چاہتے ہوئے بھی کبھی چھوڑ دیتے، اس اندیشے کے تحت کہ مبادا لوگوں کی طرف سے اس عمل کو کرنے کی وجہ سے وہ فرض نہ ہو جائے اور اس کی وجہ سے انھیں کسی بڑی مشقت کا سامنا کرنا پڑ جائے۔ آپ ﷺ نہیں چاہتے تھے کہ لوگوں کو مشقت میں ڈالیں۔

تشریح: العربية

النبي صلى الله عليه وسلم كان يترك العمل وهو يحب أن يفعله، لئلا يعمل به الناس، فيكون سببًا في فرضه عليهم، فتلحقهم بذلك مشقة عظيمة وهو -عليه الصلاة والسلام- يكره إلحاق المشقة بهم.

  • حرص النبي -صلى الله عليه وسلم- على التخفيف والتيسير على أمته في الدين.
  • وجوب الاقتداء بالنبي -صلى الله عليه وسلم-، وعدم جواز الخروج عن هديه قولًا أو فعلًا أو تقريرًا.
  • الغلو في الدين سبب في العجز عن القيام بالمشروع.
  • ترك المستحب من الأعمال إذا انبنى على تركه مصلحة شرعية.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید