حدیث

جب مجھے معراج کرائی گئی، تو میرا گزر ایسے لوگوں کے پاس سے ہوا، جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان سے اپنے منہ اور سینے نوچ رہے تھے، میں نے پوچھا: اے جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ کہا: یہ وہ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے (غیبت کرتے) اور ان کی عزتوں سے کھیلتے تھے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

حَسَنْاسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أنس بن مالك رضي الله عنه مرفوعاً: «لما عُرِجَ بي مَرَرْتُ بقوم لهم أظْفَارٌ من نُحَاسٍ يَخْمِشُونَ وُجُوهَهُمْ وَصُدُورَهُم فقلت: مَنْ هؤُلاءِ يا جِبْرِيل؟ قال: هؤلاء الذين يَأكُلُونَ لحُوم الناس، ويَقَعُون في أعْرَاضِهم!».

ترجمہ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب مجھے معراج کرائی گئی، تو میرا گزر ایسے لوگوں کے پاس سے ہوا، جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان سے اپنے منہ اور سینے نوچ رہے تھے، میں نے پوچھا: اے جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ کہا: یہ وہ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے (غیبت کرتے) اور ان کی عزتوں سے کھیلتے تھے“۔

تشریح

حدیث کا مفہوم: معراج کی رات جب نبی ﷺ کو آسمان پر لے جایا گیا تو آپ ﷺ کا گزر ایسے لوگوں کے پاس سے ہوا جو اپنے تانبے سے بنے ناخنوں کے ذریعہ اپنے جسموں کو نوچ رہے تھے۔ آپ ﷺ کو ان کی اس حالت پر تعجب ہوا تو آپ ﷺ نے جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا کہ یہ لوگ کون ہیں اور وہ اپنے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے آپ ﷺ کو بتایا کہ یہ وہ ہیں جو لوگوں کی غیبت کیا کرتے تھے اور ان کی عزتوں پر حملہ آور ہوتے تھے۔

تشریح: العربية

معنى هذا الحديث: أن النبي صلى الله عليه وسلم لما صُعِد به إلى السماء في ليلة المعراج مَرَّ بقوم يَخْدِشُون أجسامهم بأظفارهم النحاسية، فتعجب من حالهم صلى الله عليه وسلم فسأل جبريل من هؤلاء ولماذا يفعلون بأنفسهم هذا الفعل، فأخبره جبريل؛ بأن هؤلاء من يغتابون الناس، ويقعون في أعراضهم، أي يسبونهم.

  • التحذير الشديد من الغِيبة، وتشبيه المُغْتَاب بآكل لحوم البَشر، والسَاقط في المَهَاوي السحيقة.
  • تحريم الغِيبة حيث شبهها بأكل لحوم الناس.
  • إثبات معجزة الإسراء والمعراج، وأن الرسول -صلى الله عليه وسلم- رأى من آيات ربه الكبرى.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید