ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :"لا تلبسوا الحرير فإن من لبسه في الدنيا لم يلبسه في الآخرة". وفي رواية: «إِنَّمَا يَلْبَسُ الحَرِيرَ مَنْ لا خَلَاقَ له». وفي رواية للبخاري: «مَنْ لا خَلَاقَ له في الآخرةِ».
ترجمہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ریشم کا لباس مت پہنو، جو دنیا میں ریشم پہنے گا وہ آخرت میں اسے نہیں پہنے گا۔“ ایک روایت مین ہے: (دنیا میں) ریشم تو صرف وہی مرد پہنتا ہے جس کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ صحیح بخاری کی روایت میں ہے: ”جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے“۔
تشریح
نبی ﷺ نے بتایا کہ مردوں میں سے ریشم صرف وہی پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔ اس میں سخت وعید ہے کیونکہ ریشم عورتوں اور جنتیوں کا لباس ہے اور دنیا میں اسے صرف وہی لوگ پہنتے ہیں جن میں تکبر، خود پسندی اور غرور ہو۔ اسی وجہ سے اس کے پہننے سے منع کیا گیا ہے۔ یہ ممانعت قدرتی ریشم سے متعلق ہے تاہم انسان (مرد) کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ مصنوعی ریشم بھی نہ پہنے کیونکہ اس میں نسوانیت کی جھلکہوتی ہے، البتہ یہ حرام نہیں ہے، جیسا کا دائمی کمیٹی برائے فتوی (سعودی عرب) نے مصنوعی رشیم کے مباح ہونے کا فتوی دیا ہے۔
تشریح: العربية
أخبر النبي صلى الله عليه وسلم أن الحرير لا يلبسه من الرجال إلا من لا حظ له ولا نصيب له في الآخرة، وهذا فيه وعيد شديد، لأن الحرير من لباس النساء ومن لباس أهل الجنة، ولا يلبسه في الدنيا إلا أهل الكبر والعجب والخيلاء ولهذا نهى عن لبسه عليه الصلاة والسلام، والنهي مختص بالحرير الطبيعي، لكن ينبغي للإنسان ألا يلبس حتى الحرير الصناعي لما فيه من الميوعة، وليس محرمًا، كما أفتت بإباحته اللجنة الدائمة.
- لبس الحرير من كبائر الذنوب؛ لأن فيه الوعيد في الآخرة، وكل ذنب فيه وعيد الآخرة فهو كبيرة من كبائر الذنوب عند أهل العلم.
- من خالف النهي ولبس الحرير في الدنيا فإنه يعاقب بدخول النار؛ إن لم يتب ويستغفر.
- لبس الحرير من صفات المترفين الذين لا نصيب لهم في الآخرة؛ لأنهم استوفوا طيباتهم في حياتهم الدنيا.