حدیث

میں نے دنیا میں اس گناہ کے معاملے میں تیری ستر پوشی کی اور آج میں اسے تیرے لیے معاف کرتا ہوں۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «يُدْنَى المؤمنُ يومَ القيامة من ربه حتى يضع كَنَفَهُ عليه، فيُقرِّرُه بذنوبِه، فيقول: أَتَعْرِفُ ذنبَ كذا؟ أَتَعْرِفُ ذنبَ كذا؟ فيقول: ربِّ أعرف، قال: فإني قد سَترتُها عليك في الدنيا، وأنا أغْفِرُها لك اليوم، فيعطى صحيفة حسناته».

ترجمہ

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن کو قیامت کے دن اس کے رب کے قریب لایا جائے گا یہاں تک کہ اللہ تعالی اسے اپنے پہلو میں لے لے گا اور اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کراتے ہوئے پوچھے گا: کیا تمہیں یہ گناہ یاد ہے؟ کیا تمہیں یہ گناہ یاد ہے؟ وہ کہے گا کہ اے میرے رب! مجھے یاد ہے۔ اس پر اللہ تعالی فرمائے گا کہ میں نے دنیا میں اس گناہ کے معاملے میں تیری ستر پوشی کی اور آج میں اسے تیرے لیے معاف کرتا ہوں۔ پھر اسے اس کی نیکیوں کا دفتر دے دیا جائے گا“۔

تشریح

اللہ عز وجل قیامت کے دن مومن بندے کو قریب کرے گا، اُسے میدانِ حشر میں موجود لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل رکھتے ہوئے اس سے اس کے گناہوں اور معاصی کا پوشیدہ طور پر اقرار کرائے گا اور اس سے پوچھے گا کہ کیا تو اِس گناہ کو جانتا ہے؟ کیا تو اُس گناہ کو جانتا ہے؟ وہ ان کا اقرار کر لے گا تو اس پر اللہ تعالی فرمائے گا کہ میں ںے دنیا میں تمہاری ستر پوشی کی اور انسانوں کے سامنے تمہیں رسوا نہیں کیا۔ میں آج بھی ان سے تمہاری ستر پوشی کروں گا اور تمہارے ان گناہوں کو معاف کر دوں گا۔

تشریح: العربية

يقرب الله عز وجل عبده المؤمن يوم القيامة، ويستره عن أهل الموقف ويقرره بذنوبه ومعاصيه سرًّا، أَتعرفُ ذنبَ كذا؟ أَتعرف ذنبَ كذا؟ فيقر بها، فيقول: فإني قد سترتها عليك في الدنيا ولم أفضحك بها بين الخلائق، وأنا كذلك أسترها عنهم اليوم، وأغفرها لك.

  • فضل الله على بعض الناس ورحمته بهم بسترهم في الدنيا والآخرة.
  • العبد المؤمن لا يكذب في الدنيا والآخرة.
  • الاعتراف يمحو الاقتراف.
  • الحث على ستر المؤمن ما أمكن.
  • إثبات صفة الكلام لله رب العالمين.
  • أعمال العباد كلها يحصيها رب العباد، فمن وجد خيراً فليحمد الله، ومن وجد غير ذلك فلا يلومن إلا نفسه وهو تحت مشيئة الله.
  • بيان عظمة الله وقدرته على تقرير جميع الخلق في موقف واحد.
  • الواجب التسليم لأمور الغيب؛ لأن هذه الأمور لا يدركها العقل.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید