ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أبي قتادة وأنس بن مالك رضي الله عنهما مرفوعاً: «إني لأقوم إلى الصلاة، وأريد أن أُطَوِّلَ فيها، فأسمع بكاء الصبي فأَتَجَوَّزُ في صلاتي كراهيةَ أن أَشُقَّ على أمه».
ترجمہ
ابو قتادہ اور انس بن مالک رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں اور میرا ارادہ اسے لمبا کرنے کا ہوتا ہے کہ میں بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں، تو میں اپنی نماز میں اختصار سے کام لیتا ہوں، اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ میں اس کی ماں کو مشقت میں ڈالوں“۔
تشریح
نبی ﷺ نے نماز باجماعت کی امامت کراتے ہوئے نماز شروع فرماتے اور آپ ﷺ چاہتے کہ اسے لمبا کریں لیکن جب آپ ﷺ بچے کے رونے کی آواز سنتے تو اس اندیشے کی وجہ سے اسے مختصر کر دیتے کہ لمبا کرنے کی وجہ سے اس کی ماں کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے کیونکہ اس کا دل اپنے بچے کے ساتھ لگا ہوگا۔
تشریح: العربية
أن النبي صلى الله عليه وسلم يدخل في صلاة الجماعة إمامًا وهو يريد أن يطيل فيها، فإذا سمع بكاء الطفل خفف مخافة أن يشق التطويل على أمه؛ لانشغال قلبها بطفلها.
- شفقة النبي -صلى الله عليه وسلم- على أصحابه، ومراعاة أحوال الكبار والصغار منهم.
- حكمة الرسول -صلى الله عليه وسلم- فهو يضع الأمور في مواضعها.
- الإمام هو الذي يقدر مقدار الصلاة، وله أن يتحول عن تقديره لعارض.
- جواز إحضار الصغار إلى المسجد، وهذا إذا لم يكن إحضارهم مصدر إيذاء للمسجد والمصلين.
- جواز حضور النساء إلى المساجد ليصلين مع الجماعة، وهذا ما لم تخرج المرأة على وجه لا يجوز، مثل أن تخرج متعطرة أو متبرجة.